امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد کیا تو امریکہ کی جانب سے غیر متعین مگر انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان پر تہران نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے “فوجی مداخلت کا بہانہ” قرار دیا ہے، جبکہ ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک گیر مظاہروں کے بعد ریاست نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران میں اصل صورتحال کو چھپانے کے لیے گزشتہ پانچ روز سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے اور سیکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف براہِ راست فائرنگ کر رہی ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں تہران کے جنوب میں واقع کہریزک مردہ خانے میں سیاہ تھیلوں میں لپٹی لاشوں کی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں پریشان حال رشتہ دار اپنے پیاروں کی تلاش میں دکھائی دیتے ہیں، جو ریاستی بیانیے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے حالیہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے متعدد افراد پر “محاربہ” یا خدا کے خلاف جنگ جیسے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ پر بتایا کہ 26 سالہ مظاہرہ کرنے والے عرفان سلطانی کو بدھ کے روز پھانسی دی جائے گی، جبکہ محکمہ خارجہ کے مطابق اب تک 10 ہزار 600 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں اس وقت تک کے لیے منسوخ کر دی ہیں جب تک مظاہرین کے قتل کا سلسلہ بند نہیں ہو جاتا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کن ملاقاتوں کا حوالہ دے رہے تھے یا ایران کو دی جانے والی ممکنہ مدد کی نوعیت کیا ہو گی۔
یورپی ممالک نے بھی ایرانی کریک ڈاؤن پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے ایرانی سفارت کاروں کو طلب کیا ہے جبکہ یورپی یونین ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس کے مطابق مظاہروں کے دوران کم از کم 734 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں نو نابالغ بچے بھی شامل ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق تہران کے مختلف علاقوں میں بھاری سیکیورٹی نفری تعینات ہے اور مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ بغداد واپس پہنچنے والے ایک عراقی کمپیوٹر سائنسدان نے بتایا کہ شہر کے سرسبز علاقوں تک میں خوف اور بے یقینی کی فضا قائم تھی۔ ادھر ایران کے معزول شاہ کے امریکہ میں مقیم بیٹے رضا پہلوی نے فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ مظاہرے اسلامی جمہوریہ کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں، تاہم پاسدارانِ انقلاب اور دیگر طاقتور اداروں کی مضبوط گرفت کے باعث فوری طور پر نظام کے خاتمے کی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہو گا۔
