حالیہ دنوں میں چین اور بھارت کے درمیان ایک بار پھر سرحدی اور علاقائی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کی وجہ کشمیر کے شمالی خطے میں واقع شکسگام وادی سے متعلق متضاد دعوے بنے ہیں۔ اس معاملے پر چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ شکسگام وادی چین کی خودمختار سرزمین کا حصہ ہے اور بیجنگ کو وہاں تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب بیجنگ میں منعقدہ ایک معمول کی پریس بریفنگ کے دوران بھارتی میڈیا ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کی جانب سے جاری انفراسٹرکچر منصوبوں پر بھارت کی تنقید سے متعلق سوال اٹھایا۔ اس سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جس خطے کی بات کی جا رہی ہے وہ چین کا حصہ ہے اور کسی دوسرے ملک کو اس پر اعتراض کا کوئی جواز حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اپنی سرزمین پر ترقیاتی کام کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے اور ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں آتے ہیں۔
چینی ترجمان نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں ایک باضابطہ سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے اپنی مشترکہ سرحد کی حد بندی کی تھی۔ ماؤ ننگ کے مطابق، خودمختار ریاستوں کے درمیان سرحدی معاہدے کرنا ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی حق ہے، اور اس معاہدے کو غیر قانونی قرار دینا محض سیاسی بیانات سے زیادہ کچھ نہیں۔
دوسری جانب، بھارت کی وزارت خارجہ نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران شکسگام وادی پر اپنا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا تھا کہ یہ علاقہ بھارت کا حصہ ہے۔ بھارتی ترجمان نے کہا تھا کہ نئی دہلی اپنے علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت 1963 میں ہونے والے چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کرتا آیا اور اس معاہدے کو وہ یکسر غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔
بھارتی موقف کے مطابق، نہ صرف یہ کہ شکسگام وادی پر چین کا دعویٰ ناقابل قبول ہے بلکہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ سمیت تمام متعلقہ علاقے بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں، اور اس حوالے سے بھارت اپنا مؤقف متعدد مواقع پر پاکستانی اور چینی حکام کے سامنے واضح کر چکا ہے۔
بھارت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ چین شکسگام وادی میں زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر نئی دہلی کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بنتے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
چینی وزارت خارجہ نے ان اعتراضات کے جواب میں کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری محض ایک اقتصادی اور ترقیاتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد خطے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے۔ ماؤ ننگ نے واضح کیا کہ سی پیک کا تعلق کسی بھی علاقائی تنازع یا کشمیر کے مسئلے سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ منصوبہ چین کے اصولی مؤقف کو متاثر کرتا ہے۔
چینی ترجمان کے مطابق، چین کا کشمیر سے متعلق موقف ایک عرصے سے واضح اور مستقل رہا ہے، اور چین پاکستان سرحدی معاہدہ یا سی پیک جیسے منصوبے اس مؤقف میں کسی قسم کی تبدیلی کا سبب نہیں بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے اور اقتصادی تعاون کو تنازعات سے الگ رکھنا چاہتا ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں دوبارہ ابھر کر سامنے آیا ہے جب چین اور بھارت کے درمیان تعلقات میں حالیہ برسوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی اختلافات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں سب سے نمایاں ہمالیائی خطے میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب کشیدگی رہی ہے۔ 2020 میں لداخ کے علاقے میں ہونے والی ایک خونریز جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔
تاہم، 2024 میں دونوں ممالک نے ایک اہم پیش رفت کے تحت سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کا مقصد فوجی تصادم سے گریز اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینا تھا۔ اس کے بعد چین اور بھارت نے تعلقات میں بہتری کے لیے کچھ عملی اقدامات بھی کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی، تجارتی روابط کو وسعت دینا اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا شامل تھا۔
اس کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان علاقائی تنازعات مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔ اروناچل پردیش کا معاملہ اب بھی چین اور بھارت کے درمیان ایک بڑا تنازع ہے۔ چین اس علاقے کو زانگنان کے نام سے جانتا ہے اور اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختار ریاست قرار دیتا ہے۔
بیجنگ کی جانب سے اروناچل پردیش میں مختلف مقامات کے نام تبدیل کرنے کے اقدامات پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔ بھارتی حکومت ایسے اقدامات کو اپنی علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دیتی ہے اور سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کراتی رہی ہے۔
شکسگام وادی سے متعلق حالیہ بیانات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی اور علاقائی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں کشیدگی کم کرنے اور تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں، مگر شکسگام، لداخ اور اروناچل پردیش جیسے تنازعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنوبی اور مشرقی ایشیا میں جغرافیائی سیاست اب بھی ایک حساس اور پیچیدہ مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
