واشنگٹن سےسامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک موڑ اختیار کر چکی ہے۔ امریکی ٹی وی چینلز نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر زور دار اور فیصلہ کن حملے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کسی طویل جنگ کے بجائے مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے حامی ہیں تاکہ خطے میں طاقت کا واضح پیغام دیا جا سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران سے متعلق عسکری آپشنز پر مشاورت جاری ہے اور صدر ٹرمپ ایسے اقدام کے خواہاں ہیں جو کم وقت میں بڑے نتائج دے سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمتِ عملی خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اسرائیلی آرمی چیف نے فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے۔ شمالی اسرائیل سمیت مختلف حساس علاقوں میں بم شیلٹرز کھول دیے گئے ہیں اور شہریوں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران یا اس کے اتحادی گروپ کسی بھی کارروائی کے ردِعمل میں جوابی حملے کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب کو توقع ہے کہ امریکا ایران پر حملے سے قبل اسرائیل کو پیشگی وارننگ دے گا تاکہ دفاعی اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی فضائی آپریشنز بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔ جرمن ایئرلائن نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اسرائیل کے لیے رات کی تمام پروازیں 19 جنوری تک معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ادھر ایران میں بھی سکیورٹی خدشات کے باعث غیر ملکیوں کا انخلا تیز ہو گیا ہے۔ امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن کی اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں شہریوں پر زور دیا ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر جلد از جلد ایران سے نکلنے کی کوشش کریں۔
اسی طرح پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں اپنے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ایران سے انخلا یقینی بنائیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے بھی ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے جبکہ ایران میں تعینات برطانوی سفیر کو بھی وطن واپس طلب کر لیا گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ صورتحال کو انتہائی سنجیدہ سمجھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر امریکا نے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے، جس سے عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
