واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکا نے وینزویلا کے تیل کی باضابطہ فروخت کا آغاز کر دیا ہے، جو خطے کی سیاست اور عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے تیل کی پہلی باضابطہ فروخت، جس کی مالیت 500 ملین ڈالر ہے، مکمل کر لی گئی ہے جبکہ آئندہ دنوں میں مزید فروخت متوقع ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے بلکہ وینزویلا کے توانائی شعبے میں امریکی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی کا بھی حصہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید بڑے معاہدے سامنے آ سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم مختلف بین الاقوامی اور امریکی تیل کمپنیوں سے مسلسل مذاکرات کر رہی ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایسی کمپنیوں کو شامل کرنا ہے جو وینزویلا کے تیل کے انفرا اسٹرکچر اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار اور مائل ہیں۔
ترجمان کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ وینزویلا کا تیل کا شعبہ جدید خطوط پر استوار ہو تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو اور عالمی منڈی میں سپلائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سرمایہ کاری وینزویلا کی معیشت کی بحالی کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک غیر معمولی پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ 3 جنوری کو امریکا نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کی تھی، جس کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں دونوں کو امریکی عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد وینزویلا میں سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق وینزویلا کے تیل کی فروخت کا آغاز نہ صرف امریکا کی معاشی اور سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ اقدام عالمی توانائی سیاست میں ایک نئے دور کی نشاندہی بھی کر رہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات لاطینی امریکا سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔
