امریکہ کی جانب سے عالمی سطح پر ہجرت کے قوانین میں ایک بار پھر سختی لاتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے درجنوں ممالک کے شہریوں، بالخصوص عرب دنیا اور ترقی پذیر ریاستوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک تازہ ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے دنیا کے پچھتر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے امیگریشن ویزا کے عمل کو فی الحال روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں امریکہ کی داخلی سیاست، معاشی خدشات اور ہجرت سے متعلق طویل عرصے سے جاری مباحث کارفرما ہیں۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق، دنیا بھر میں موجود امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو یہ واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ موجودہ قانونی شقوں کو بنیاد بناتے ہوئے امیگریشن ویزا جاری کرنے سے گریز کریں۔ یہ پابندی ایک مخصوص تاریخ سے لاگو کی جا رہی ہے تاکہ تمام مشنز یکساں طور پر اس پالیسی پر عمل درآمد کر سکیں۔ سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ معطلی 21 جنوری سے نافذ العمل ہو گی، جس کے بعد متاثرہ ممالک کے شہریوں کے لیے امریکہ ہجرت کا راستہ مزید دشوار ہو جائے گا۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام اچانک نہیں بلکہ ایک عرصے سے زیر غور تھا۔ محکمہ خارجہ کے مطابق بعض ممالک سے آنے والے افراد امریکہ میں داخل ہونے کے بعد ریاستی سہولیات، سماجی فوائد اور عوامی امدادی پروگراموں پر انحصار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے امریکی نظام پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اسی نکتے کو بنیاد بناتے ہوئے امریکی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے ممکنہ مہاجرین کو ابتدا ہی میں روکا جائے جو مستقبل میں ریاست کے لیے مالی یا انتظامی مسئلہ بن سکتے ہیں۔
اس حوالے سے محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ٹومی بیگوت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس پہلے سے موجود قانونی اختیارات ہیں جن کے تحت وہ غیر اہل درخواست دہندگان کو امیگریشن ویزا دینے سے انکار کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکی عوام کی ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقوم اور ریاستی سخاوت کا غلط استعمال نہ ہو اور صرف وہی افراد ملک میں داخل ہوں جو خود کفیل ہوں اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔
اس فیصلے کے بعد سب سے زیادہ توجہ اس سوال پر مرکوز ہو گئی ہے کہ آخر وہ کون سے ممالک ہیں جو اس پابندی کی زد میں آئے ہیں۔ امریکی میڈیا ادارے “فوکس نیوز” کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق اس فیصلے میں تیرہ عرب ممالک شامل کیے گئے ہیں۔ ان ممالک میں الجزائر، مصر، عراق، اردن، لبنان، شام، لیبیا، سوڈان، مراکش، تونس، صومالیہ اور یمن شامل ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض ذرائع میں الجزائر کا نام فہرست میں دوبارہ بھی آیا ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس ملک کے شہریوں سے متعلق امریکی حکام کے خدشات خاصے سنگین نوعیت کے ہیں۔
تاہم یہ پابندی صرف عرب دنیا تک محدود نہیں۔ اس فیصلے کے دائرہ کار میں مشرق وسطیٰ، افریقہ، ایشیا اور یورپ کے کئی ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں روس، ایران، مالدووا، مونٹی نیگرو، منگولیا، نیپال، پاکستان، نائیجیریا، روانڈا، سینیگال، جنوبی سوڈان، تنزانیہ، تھائی لینڈ، توگو، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان سمیت دیگر متعدد ریاستیں شامل ہیں۔ یوں یہ اقدام دراصل ایک عالمی نوعیت کی امیگریشن پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ میں ہجرت کے عمل کو مجموعی طور پر محدود کرنا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد جنوری میں ہجرت سے متعلق سخت اقدامات کا آغاز کیا تھا، جن میں نہ صرف غیر قانونی ہجرت بلکہ قانونی امیگریشن کے عمل کو بھی پیچیدہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے کو روکیں گے اور سرحدی نظام کو مضبوط بنائیں گے۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی انتظامیہ نے کئی ایسے فیصلے کیے جن کا مقصد امیگریشن کے تمام پہلوؤں پر سخت نگرانی قائم کرنا تھا۔ ان اقدامات میں ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے H-1B ویزا پروگرام میں بھاری فیس کا نفاذ بھی شامل ہے، جس سے بہت سے ماہر افراد کے لیے امریکہ میں کام کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ قابل ذکر ہے کہ حالیہ پابندی کا اطلاق صرف امیگریشن ویزا پر ہو گا، نہ کہ وزٹ یا سیاحتی ویزوں پر۔ اس فرق کو امریکی حکام نے خاص طور پر واضح کیا ہے کیونکہ آنے والے برسوں میں امریکہ کئی بڑے عالمی ایونٹس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ 2026 میں فٹ بال ورلڈ کپ اور 2028 میں اولمپک گیمز کے انعقاد کے باعث امریکہ میں لاکھوں غیر ملکی سیاحوں کی آمد متوقع ہے، اور ایسے میں وزٹ ویزا کے عمل کو مکمل طور پر بند کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وزٹ ویزا بظاہر اس پابندی سے محفوظ ہیں، لیکن امیگریشن پالیسی میں مجموعی سختی کے اثرات بالآخر دیگر ویزا زمروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہجرت کے ماہرین نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے اور وہ افراد جو قانونی طریقے سے بہتر مستقبل کی تلاش میں امریکہ جانا چاہتے تھے، ان کے لیے راستے بند ہو جائیں گے۔
یوں یہ فیصلہ نہ صرف امریکی امیگریشن نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے ہجرت سے متعلق رویے کی سمت کا بھی واضح اظہار کرتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا یہ معطلی عارضی ثابت ہوتی ہے یا مستقبل میں مزید سخت اقدامات کی بنیاد بن جاتی ہے۔
