واشنگٹن: وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنے نوبیل امن انعام کا میڈل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا، جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پیشکش جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران کی گئی، جس کا مقصد وینزویلا میں سیاسی مستقبل اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر و رسوخ پیدا کرنا بھی تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ میڈل اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پیشکش کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ:
"ماریا نے خدمات کے صلے کے طور پر مجھے نوبیل پیس پرائز پیش کیا، جو باہمی احترام کی شاندار علامت ہے۔ شکریہ ماریا۔”
ماریا ماچاڈو نے اس ملاقات کو انتہائی مثبت اور اہم قرار دیا، اور کہا کہ یہ تحفہ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماریا ماچاڈو نے وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کی جگہ ان کی قیادت کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔
ناروے کے نوبیل انسٹیٹیوٹ کی وضاحت کے مطابق یہ اعزاز ہمیشہ انہی کا رہتا ہے جس کو یہ دیا جاتا ہے اور اسے منتقل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ انہوں نے میڈل مانگا نہیں اور یہ انعام ماریا ماچاڈو کا ہی ہے۔
دوپہر کے کھانے پر ہونے والی یہ پہلی ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہی، جس کے بعد ماریا ماچاڈو نے کیپٹل ہل میں متعدد سینیٹرز، ریپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ ماریا کی ملاقات کے منتظر تھے، لیکن وہ یہ بھی واضح رکھتے ہیں کہ فی الحال ملک کی قیادت کے لیے درکار مکمل سپورٹ موجود نہیں۔
ماریا ماچاڈو کے دورے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ اس ملاقات کو نہ صرف نوبیل میڈل کی پیشکش کی وجہ سے اہمیت حاصل ہوئی ہے بلکہ یہ وینزویلا میں اپوزیشن کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور امریکی اثر و رسوخ کے امکانات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
