واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ نہ کرنے کے فیصلے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے لیے انہیں کسی نے قائل نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا عرب اور اسرائیلی حکام نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا،
“کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دیے جانے کا خدشہ تھا، تاہم کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، جس کا فیصلہ سازی پر “بہت بڑا اثر” پڑا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ جن افراد کو پھانسی دیے جانے کا خدشہ تھا، اب انہیں پھانسی نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر سے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اور اسی روز امریکی صدر نے بیان دیا کہ انہیں “دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع” سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحات میں تبدیل کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھی، جن میں سعودی عرب، قطر اور عمان شامل ہیں۔ ان ممالک نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کر کے مؤقف اختیار کیا کہ تہران کو اپنے “اچھے عمل” کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے بیانات اور سفارتی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں، تاہم صورتحال اب بھی نازک قرار دی جا رہی ہے۔
