واشنگٹن:وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ میں یورپی افواج کی تعیناتی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جس کے تحت وہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس قطبی جزیرے پر امریکی کنٹرول چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ“میرا نہیں خیال کہ یورپ کی جانب سے افواج کی تعیناتی صدر کے فیصلے کو متاثر کرے گی، اور نہ ہی یہ گرین لینڈ کو امریکہ میں ضم کرنے کے ان کے مقصد میں کوئی رکاوٹ بنے گی۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعرات کو ایک یورپی فوجی مشن گرین لینڈ پہنچا، جبکہ ڈنمارک نے بھی جزیرے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ میں عدم موجودگی سے متعلق تنقید کے جواب میں کیا گیا ہے۔
یورپی افواج کی علامتی تعیناتی ہورہی ہے،فرانس، سویڈن، جرمنی، ناروے، ہالینڈ، فن لینڈ اور برطانیہ نے ڈنمارک کی زیرِ قیادت فوجی مشقوں “آرکٹک ریزیلینس” کے تحت اپنے دستے گرین لینڈ روانہ کیے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ تعیناتی علامتی نوعیت کی ہے، جس میں جرمنی کے 13 جبکہ ہالینڈ اور برطانیہ کا ایک ایک فوجی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مستقبل میں بڑے پیمانے کی فوجی مشقوں کے لیے تیاری کرنا ہے۔
دریں اثنا، ڈنمارک کی فضائیہ کے ایک طیارے نے فوجی اہلکاروں کو گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک منتقل کیا، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی قیادت کے تحفظات بھی سامنے آئےہیں،فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اس موقع پر زور دیا کہ یورپی ممالک کو وہاں موجود رہنا چاہیے جہاں ان کے اسٹریٹجک مفادات کو خطرہ ہو، تاہم انہوں نے علاقائی سالمیت کے احترام پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کر دیا۔
دوسری جانب ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹی فریڈرکسن نے امریکہ کے ساتھ گرین لینڈ کے مستقبل پر “بنیادی اختلاف” کا اعتراف کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کے اندر اس بات پر اتفاق موجود ہے کہ آرکٹک میں مضبوط موجودگی یورپ اور شمالی امریکہ، دونوں کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
ڈنمارک کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 2026 تک گرین لینڈ میں مستقل فوجی موجودگی بڑھانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا نیا مؤقف سامنےآیاہےجس میں میزائل دفاعی ڈھال سے گرین لینڈ کو جوڑ دیا.امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس “گولڈن ڈوم” میزائل دفاعی نظام کے لیے جسے وہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے کنٹرول کو براہِ راست امریکہ کے بڑے میزائل دفاعی منصوبے سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور چین کی آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے گرین لینڈ کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور انہوں نے اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گرین لینڈ پر امریکی دعوے اور یورپی فوجی سرگرمیاں آرکٹک خطے کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے اسٹریٹجک محاذ میں تبدیل کر سکتی ہیں
