امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست میں دباؤ ڈالنے کے لیے معاشی ہتھیار استعمال کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو ممالک گرین لینڈ سے متعلق امریکی حکمتِ عملی کی حمایت نہیں کریں گے، انہیں سخت تجارتی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے گرین لینڈ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اور امریکہ کے درمیان گرین لینڈ کے مستقبل پر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس وسیع و عریض جزیرے پر حالیہ دنوں میں یورپی ممالک نے علامتی طور پر اپنے فوجی دستے تعینات کیے ہیں، جن کا مقصد ڈنمارک کے مؤقف کی حمایت اور خطے میں یکجہتی کا اظہار بتایا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی فوجیوں کی یہ تعیناتی امریکی منصوبوں پر کسی قسم کا اثر نہیں ڈالے گی۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز پہلی مرتبہ کھل کر یہ عندیہ دیا کہ وہ ان تمام ممالک کے خلاف امریکی ہتھیاروں اور تجارتی ٹیرف میں اضافہ کر سکتے ہیں جو گرین لینڈ پر امریکی پالیسی کی مخالفت کریں گے۔ اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص یورپی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر ان نیٹو اتحادیوں کی جانب تھا جو ڈنمارک کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحت کے موضوع پر منعقد ہونے والی ایک گول میز کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ امریکہ کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے، اور یہ معاملہ محض علاقائی سیاست کا نہیں بلکہ براہِ راست امریکی قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق معدنی وسائل سے مالا مال یہ جزیرہ مستقبل میں عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا مرکز بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب روس اور چین آرکٹک خطے میں اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے قبل بھی معاشی دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس انہوں نے فرانس اور جرمنی کو دواسازی کی مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے پر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی تھی، اور یہی حکمتِ عملی اب دیگر معاملات میں بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر فوجی طاقت استعمال کرنا ضروری نہ ہو تو امریکہ معاشی دباؤ کو زیادہ مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کی دھمکی دراصل ان کی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ اقتصادی طاقت کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ ایسے اہداف جنہیں براہِ راست فوجی کارروائی کے ذریعے حاصل کرنا مشکل ہو، وہاں تجارتی پابندیاں اور ٹیرف ایک متبادل راستہ بن جاتے ہیں۔
یورپی سطح پر گرین لینڈ کے معاملے پر غیر معمولی یکجہتی دیکھی جا رہی ہے۔ متعدد یورپی ممالک نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ڈنمارک کے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں کہ گرین لینڈ کو کسی بھی صورت امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں چند ممالک نے علامتی طور پر اپنے فوجی دستے گرین لینڈ میں تعینات کر کے سیاسی پیغام دیا ہے کہ وہ اس خطے کے تحفظ اور خودمختاری کے حق میں ہیں۔
اسی دوران امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ کانگریس پر مشتمل ایک وفد بھی جمعہ کے روز ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن پہنچا۔ اس وفد کا مقصد ڈنمارک اور گرین لینڈ کے مؤقف کی حمایت کا اظہار کرنا بتایا جا رہا ہے، جسے امریکی داخلی سیاست میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے اس صورتحال کے پیشِ نظر بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دورے کا مقصد گرین لینڈ سے متعلق پھیلنے والی افواہوں، بیانات اور امریکی دھمکیوں پر بات چیت کرنا تھا۔ ملاقات کے بعد ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ان اور صدر ٹرمپ کے درمیان بنیادی اختلافات موجود ہیں۔
تاہم اسی دورے کے بعد امریکی حکام نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ اور ڈنمارک نے گرین لینڈ کے معاملے پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ورکنگ گروپ ہر دو یا تین ہفتوں بعد ملاقات کرے گا تاکہ اختلافات کم کیے جا سکیں اور کسی ممکنہ حل کی طرف پیش رفت ہو سکے۔ یہ بیان جمعرات کے روز جاری کیا گیا تھا۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کا معاملہ آئندہ مہینوں میں امریکہ اور یورپ کے تعلقات کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی سخت زبان اور ٹیرف کی دھمکیاں نہ صرف سفارتی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں بلکہ عالمی تجارتی نظام پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکلتا ہے یا یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے۔
