اسپین کے جنوبی علاقے میں اتوار کی رات پیش آنے والا ایک ہولناک ریلوے حادثہ ملک کے لیے ایک گہرا صدمہ بن گیا ہے، جہاں دو مسافر ٹرینوں کے درمیان تباہ کن تصادم کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 120 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔ یہ سانحہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں اسپین کا بدترین ریلوے حادثہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ اور تشویش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
یہ المناک واقعہ صوبہ قرطبہ (کوردوبا) کے قصبے آدموز کے قریب پیش آیا، جو دارالحکومت میڈرڈ سے تقریباً 360 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ ہنگامی خدمات کے مطابق حادثہ شام 7 بج کر 45 منٹ پر اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار مسافر ٹرین پٹڑی سے اتر گئی اور سامنے سے آنے والی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی۔ تصادم کی شدت کے باعث کئی بوگیاں الٹ گئیں اور پٹڑی کے اطراف بکھر گئیں، جن میں متعدد مسافر پھنس گئے۔
حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اداروں نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کیں، جو پوری رات جاری رہیں۔ تیز روشنیوں، بھاری مشینری اور خصوصی آلات کی مدد سے زخمیوں کو نکالا گیا۔ ایمرجنسی حکام کے مطابق 122 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 48 تاحال اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ 12 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے اور وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہیں۔ قرطبہ کے تمام بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور طبی عملے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔
حادثے کے مناظر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ڈرون فوٹیج میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں تباہ شدہ بوگیاں الٹی پڑی ہیں، کھڑکیاں چکنا چور ہو چکی ہیں اور ریل کی پٹڑی کے اطراف ملبہ پھیلا ہوا ہے۔ کچھ ویڈیوز میں مسافروں کو ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں سے باہر نکلتے دیکھا گیا، جبکہ زخمیوں کو اسٹریچرز پر ایمبولینسوں تک منتقل کیا جا رہا تھا۔
اسپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوئینتے نے پیر کے روز بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 39 تک پہنچ چکی ہے تاہم حتمی تعداد میں اضافے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ریسکیو ٹیموں، فائر فائٹرز، طبی عملے اور سیکیورٹی فورسز کی انتھک کوششوں کو سراہا اور متاثرہ خاندانوں سے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ خود قرطبہ روانہ ہوئے تاکہ امدادی کارروائیوں اور صورتحال کا براہِ راست جائزہ لے سکیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں شامل دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر تقریباً 400 مسافر سوار تھے۔ ان میں سے ایک ٹرین نجی آپریٹر ایریو (Iryo) کی تھی جو مالاگا سے میڈرڈ جا رہی تھی، جبکہ دوسری الویہ (Alvia) سروس تھی جو سرکاری ادارے رینفے (Renfe) کے زیر انتظام ہے اور ہویلوا کی جانب رواں دواں تھی۔ ہسپانوی میڈیا کے مطابق تصادم کے وقت الویہ ٹرین کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب تھی، تاہم حکام نے ابھی اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
اکثر مسافر ہسپانوی شہری تھے جو ویک اینڈ کے بعد میڈرڈ یا جنوبی شہروں کا سفر کر رہے تھے۔ چونکہ یہ واقعہ سیاحتی لحاظ سے نسبتاً کم سیزن میں پیش آیا، اس لیے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرینوں میں کتنے غیر ملکی سیاح موجود تھے۔ متاثرین کی شناخت اور اہل خانہ کو اطلاع دینے کا عمل جاری ہے جبکہ نفسیاتی مدد کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تعینات کر دی گئی ہیں۔
حادثے کے باعث اسپین کے جنوبی ریلوے نظام کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ پیر کے روز میڈرڈ اور اندلوسیہ کے درمیان 200 سے زائد ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں، جن میں قرطبہ، سیویل اور غرناطہ جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور رینفے نے عوام کو متبادل سفری انتظامات اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بھی فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنا یومیہ شیڈول منسوخ کر دیا اور سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا گیا اور حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی گئی۔ کئی علاقوں میں سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں کر دیے گئے۔
تاحال حادثے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ کے مطابق تحقیقات میں تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں تکنیکی خرابی، سگنلنگ سسٹم، پٹڑی کی حالت اور انسانی غلطی شامل ہیں۔ ٹرینوں کے بلیک باکس ڈیٹا کو بھی جانچ کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
یہ حادثہ اسپین میں 2013 کے بعد سب سے جان لیوا ریلوے سانحہ ہے، جب شمال مغربی شہر سانتیاگو ڈی کومپوستیلا میں ایک ٹرین حادثے کے نتیجے میں 80 افراد جاں بحق اور 140 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس سانحے کے بعد حفاظتی اقدامات میں بہتری لائی گئی تھی، اسی لیے حالیہ حادثے نے عوام اور حکام دونوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اسپین کا ہائی اسپیڈ ریلوے نیٹ ورک دنیا کے جدید ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جس کی مجموعی لمبائی 3,622 کلومیٹر ہے۔ یہ یورپ کا سب سے بڑا اور چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا نیٹ ورک ہے، جس کی نگرانی انفراسٹرکچر ادارہ ایڈیف (Adif) کرتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں بجلی کی بندش اور تانبے کی تاروں کی چوری جیسے مسائل نے اس نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
2020 میں اسپین نے اپنی ہائی اسپیڈ ریل سروس کو نجی شعبے کے لیے کھولا تاکہ مسافروں کو کم لاگت اور بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ایریو اسی پالیسی کے تحت قائم ہونے والی ایک کمپنی ہے، جو اطالوی اسٹیٹ ریلوے، اسپین کی ایئر لائن ایئر نوستروم اور سرمایہ کاری فنڈ گلوبل ویا کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس نے 2022 میں میڈرڈ-بارسلونا روٹ سے اپنی سروس کا آغاز کیا تھا۔
دوسری جانب، الویہ ٹرینیں بدستور رینفے کے زیر انتظام چلائی جا رہی ہیں۔ نجی اور سرکاری آپریٹرز کے اس مشترکہ نظام نے اسپین کے ریلوے شعبے کو ضرور بدلا ہے، تاہم حالیہ حادثہ حفاظتی نگرانی اور ضابطہ کاری پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
اسپین اس وقت غم، سوالات اور احتساب کے دور سے گزر رہا ہے۔ فی الحال توجہ زخمیوں کے علاج، متاثرہ خاندانوں کی مدد اور جان بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پر مرکوز ہے، مگر یہ سانحہ طویل عرصے تک قوم کی اجتماعی یادداشت میں ایک تلخ باب کے طور پر محفوظ رہے گا۔
