واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کو اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔
عہدۂ صدارت کو ایک سال مکمل ہونے پر وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عالمی سیاست، نیٹو، مشرقِ وسطیٰ، پاک بھارت کشیدگی اور تجارتی ٹیرف سے متعلق کئی اہم اور متنازع بیانات دیے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ نیٹو کو سب سے زیادہ مضبوط بنانے کا کام انہوں نے کیا اور اگر امریکا ان کی قیادت میں نیٹو کا ساتھ نہ دیتا تو آج یہ اتحاد تاریخ کاحصہ (راکھ)بن چکاہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات تلخ ضرور ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔
گرین لینڈ سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ اس معاملے پر ایسا حل نکالا جائے گا جس سے نیٹو بھی مطمئن ہو اور امریکا بھی فائدے میں رہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ غزہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ لینے کے لیے نہیں بنایا جا رہا اور عالمی ادارے کو اپنا کام جاری رکھنے دیا جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ پیرس میں ہونے والے G7 اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وینزویلا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ انہیں سابق وینزویلا صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے بڑا دعویٰ کیا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہ روکی جاتی تو ایک کروڑ سے دو کروڑ افراد جان سے ہاتھ دھو سکتے تھے۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے براہِ راست مداخلت کر کے صورتحال کو جنگ میں بدلنےسےروکا۔
انہوں نےبتایاکہ وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے بھی ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔
تجارتی محاذ پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ ٹیرف سے متعلق کیا فیصلہ دے گی، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کیس ہار گئی تو سیکڑوں ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ٹیرف قانونی طور پر نافذ کیے گئے تھے اور پہلے ہی وصول شدہ ڈیوٹیز کی واپسی نہایت پیچیدہ اور مشکل عمل ہوگا، جس سے متعدد فریقین متاثر ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی یہ پریس کانفرنس نہ صرف امریکی داخلی سیاست بلکہ عالمی سفارتی منظرنامے میں بھی اہم سمجھی جا رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں نمایاں ہونے کا امکان ہے۔
