ڈیووس: فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فرانس پر 200 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کہا ہے کہ دنیا کو غنڈہ گردی نہیں بلکہ احترام، تعاون اور استحکام کی ضرورت ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر میکرون نے کہا کہ فرانس دھمکیوں اور دباؤ کی پالیسی کے سامنے جھکنے کے بجائے باہمی احترام اور اصولی مؤقف کو ترجیح دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایک بار پھر سامراجی عزائم کے ابھار کا سامنا کر رہی ہے، جو عالمی ترقی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
صدرمیکرون نے نیٹو کے کردار پر بھی کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو میں اب وہ ہم آہنگی باقی نہیں رہی جو ماضی میں تھی اور یہ ادارہ بتدریج کمزور ہو چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی طاقتوں کو تقسیم کے بجائے اتحاد کی طرف جانا ہوگا، اور کسی ایسے نظام کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو دنیا کو مزید تقسیم کرے۔
فرانسیسی صدر نے ایک سخت لیکن سفارتی پیغام دیتے ہوئے کہا ہم غنڈہ گردی کے مقابلے میں احترام کو ترجیح دیتے ہیں، اور دھمکیوں کی سیاست کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر میکرون نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ ڈیووس اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، جسے واشنگٹن اور پیرس کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کی ایک اور علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر میکرون کا یہ دوٹوک مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی پالیسیوں، ٹیرف جنگ اور نیٹو کے مستقبل پر اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
