یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے اہم تجارتی معاہدے کو باضابطہ طور پر معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے، جسے امریکا اور یورپ کے تعلقات میں ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی بار بار خواہش کے اظہار اور یورپی یونین کے خلاف اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ذرائع اور رپورٹس کے مطابق یہ تجارتی معاہدہ گزشتہ سال دونوں فریقین کے درمیان طے پایا تھا، جس کا مقصد امریکا اور یورپ کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ معاہدے کے تحت امریکا نے یورپی مصنوعات پر مجوزہ 30 فیصد ٹیرف کم کر کے 15 فیصد کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جبکہ یورپی یونین نے امریکی سرمایہ کاری میں اضافے، امریکی برآمدات کے فروغ اور تجارتی سہولیات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
تاہم حالیہ مہینوں میں امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق جارحانہ بیانات اور یورپ پر ٹیرف بڑھانے کی کھلی دھمکیوں نے اس معاہدے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خودمختار علاقہ ہے، یورپی یونین کے لیے اسٹریٹجک، سیاسی اور جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے، اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی امریکی پیش قدمی کو یورپی قیادت نے اپنی علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے چیئرمین نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی دھمکیوں نے یورپی یونین کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین نے تمام ممکنہ سفارتی راستے آزما لیے، مگر امریکی مؤقف میں لچک نہ آنے کے باعث تجارتی معاہدہ معطل کرنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن باقی نہیں بچا۔ ان کے مطابق یورپی یونین اپنی خودمختاری اور اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ماہرین کے مطابق یورپی یونین کے اس فیصلے کے امریکا۔یورپ تعلقات، عالمی تجارت، سرمایہ کاری کے رجحانات اور مستقبل کی سفارتی حکمتِ عملی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور آنے والے دنوں میں دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
