واشنگٹن:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ رواں سال کے اختتام تک کیوبا میں برسرِ اقتدار کمیونسٹ نظام کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور فعال کوششیں کر رہی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ، جو حال ہی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب رہی، اب کیوبا کی حکومت کے اندر ایسی شخصیات کی تلاش میں ہے جو موجودہ نظام کے خاتمے اور کسی ممکنہ سیاسی معاہدے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔ امریکی حکام کا ہدف ہے کہ یہ عمل 2026 کے اختتام تک منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ میامی اور واشنگٹن میں کیوبن جلاوطن رہنماؤں اور سول سوسائٹی گروپس سے ہونے والی ملاقاتوں میں اس نکتے پر خاص توجہ دی گئی کہ آیا کیوبا کی موجودہ حکومت کے اندر کوئی ایسا بااثر فرد موجود ہے جو زمینی حقائق کو سمجھتا ہو اور کمیونسٹ نظام کے خاتمے پر آمادہ ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کا اندازہ ہے کہ کیوبا کی معیشت انتہائی سنگین بحران کا شکار ہو چکی ہے اور اپنے قریبی اتحادی نکولس مادورو کے زوال کے بعد ہوانا کی حکومت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں کیوبا کی معاشی صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیا گیا ہے، جہاں خوراک، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ بجلی کی فراہمی میں بار بار تعطل معمول بن چکا ہے۔
اخبار نے ان افراد کے حوالے سے بتایا جو امریکی انٹیلی جنس تجزیوں سے آگاہ ہیں کہ جزیرے میں عوامی بے چینی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جسے واشنگٹن ایک ممکنہ سیاسی تبدیلی کے لیے سازگار ماحول سمجھ رہا ہے۔
اگرچہ امریکہ نے سرکاری طور پر کیوبا کے خلاف فوجی کارروائی کی کوئی دھمکی نہیں دی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ وینزویلا میں مادورو کے خلاف کی گئی جرات مندانہ کارروائی ہوانا کے لیے ایک خاموش مگر واضح پیغام ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کیوبا میں تقریباً سات دہائیوں سے قائم حکومت کے خاتمے کے لیے فی الوقت کوئی مکمل اور واضح منصوبہ موجود نہیں، تاہم مادورو کی گرفتاری اور اس کے بعد اس کے اتحادیوں کی جانب سے دی جانے والی رعایتوں کو کیوبا کے لیے ایک تنبیہی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اخبار نے مزید انکشاف کیا کہ 3 جنوری کو نکولس مادورو کی گرفتاری اس کے ایک قریبی ساتھی کی مدد سے عمل میں لائی گئی، جس کے دوران 32 کیوبن فوجی اور مادورو کی سیکیورٹی ٹیم سے وابستہ انٹیلی جنس اہلکار ہلاک ہوئے۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق اس کارروائی نے خطے کی سیاسی حرکیات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اور کیوبا اب واشنگٹن کی توجہ کا نیا مرکز بن چکا ہے۔
