کوپن ہیگن:ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک گرین لینڈ اور قطبی شمالی خطے کی سلامتی سے متعلق اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعمیری مکالمہ جاری رکھنا چاہتا ہے، تاہم یہ بات چیت صرف اور صرف ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کے احترام کے دائرے میں ہی ممکن ہوگی۔
وزیرِاعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈنمارک سیاسی معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے، جن میں سلامتی، سرمایہ کاری اور معیشت شامل ہیں، مگر خودمختاری پر کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہااب خودمختاری پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران ڈنمارک کے زیرِ انتظام جزیرے گرین لینڈ سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد عالمی سطح پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
تاہم دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں گرین لینڈ کی خودمختاری کا معاملہ زیرِبحث نہیں آیا۔
میٹے فریڈرکسن نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مذاکرات کے پورے عمل کے دوران گرین لینڈ کی حکومت کے ساتھ قریبی ہم آہنگی برقرار رکھی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا گیا اور انہوں نے ذاتی طور پر مارک روٹے سے متعدد بار گفتگو کی، خاص طور پر ڈاووس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے اور بعد میں۔
ڈنمارک کی وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ مملکتِ ڈنمارک اپنے اتحادیوں کے ساتھ قطبی شمالی خطے میں سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعمیری مکالمہ جاری رکھے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس تعاون میں امریکی گولڈن ڈوم دفاعی نظام کے ذریعے شراکت بھی شامل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ تمام اقدامات ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کے احترام کے اصول کے تحت ہوں۔
