نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اور ڈنمارک کی وزیرِ اعظم مٹے فریڈریکسن نے جمعے کو برسلز میں یہ واضح اور باہمی اتفاق ظاہر کیا ہے کہ قطبِ شمالی (Arctic) میں نیٹو کی سلامتی اور دفاعی کوششوں کو مضبوط بنانا اولین ترجیح ہےخاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ سے متعلق اپنی سخت خواہشات اور دھمکیوں سے کچھ پیچھے ہٹنے کے بعد مذاکرات کی راہ اپنائی ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے اپنی ڈنمارک کی ہم منصب مٹے فریڈریکسن سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ تمام نیٹو ممالک مل کر قطبِ شمالی میں اپنے دفاعی اور سلامتی کے اہداف کو مضبوط کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک اپنے تعاون کو مزید تقویت دیں گے تاکہ شمالی قطب کے ممالک (امریکہ، کینیڈا، ڈنمارک، آئس لینڈ، سویڈن، فن لینڈ اور ناروے) کی مشترکہ سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم مٹے فریڈریکسن نے بھی گرین لینڈ کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں وہ گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم ینس فریڈرک نیلسن سے ملاقات کریں گی اور جزیرے کے مستقبل اور سیکیورٹی صورتحال پر بامعنی گفتگو کریں گی۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لانے کی ممکنہ خواہش اور اس حوالے سے کی گئی دھمکیوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ تاہم اب ٹرمپ نے گرین لینڈ کو ضم کرنے یا اسے “حاصل کرنے” کی شدت کم کر دی ہے، اور طاقت کا استعمال نہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
روٹے نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ جاری بات چیت کا اصل مقصد روس اور چین کو قطبِ شمالی اور گرین لینڈ تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ گرین لینڈ کی خودمختاری اور ڈنمارک کی ریاستی حیثیت مستحکم رہے گی۔
مٹے فریڈریکسن نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ نیٹو کو آرکٹک میں اپنی شمولیت بڑھانی چاہیے کیونکہ قطبِ شمالی کی سلامتی پورے نیٹو اتحاد کے مفاد میں ہے۔
