گرین لینڈ معاملہ واشنگٹن-کوپن ہیگن-برسلز کے درمیان ایک جیو-اسٹریٹجک اور سفارتی تنازعے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ گرِین لینڈ کے اُن علاقوں پر اپنی خود مختاری نافذ کر دے گا جہاں امریکی فوجی اڈے واقع ہیں — یہ اعلان ’’نیو یارک پوسٹ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا گیا، جو ہفتے کے روز شائع ہوا۔
ٹرمپ کے مطابق وہ گرین لینڈ کے اسٹریٹجک مقامات تک گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر ان دستوں، اڈوں اور انسداد دفاعی نظام جیسے پٹفیئک اسپیس بیس کے پاس، جو بحرِ آرکٹک میں قومی سیکیورٹی کے اعتبار سے اہم ہیں۔
ان بیانات نے روایتی یورپی اتحادیوں، خاص طور پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے خود مختار حکام، کے ساتھ کشیدگی بڑھا دی ہے۔ کوپن ہیگن اور نارک نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کی خود مختاری ایک ’’ریڈ لائن‘‘ ہے اور وہ اپنے علاقے کو کسی بھی غیر رضاکارانہ تبدیلی کے خلاف مسترد کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے اس تناؤ کے دوران بعض یورپی شراکت داروں پر کسٹم ڈیوٹی لگانے کی دھمکی بھی دی تھی تاکہ انہیں گرین لینڈ پر امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے دباؤ میں رکھا جا سکے، تاہم ان دھمکیوں پر بعد میں کچھ چھوٹ دی گئی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق موجودہ پُراثر مذاکرات میں گرین لینڈ کے فوجی اڈوں تک باضابطہ امریکی رسائی اور ممکنہ طور پر انہی علاقوں پر ’خود مختاری‘ کے حقوق حاصل کرنے پر بات ہو رہی ہے، جبکہ 1951 کے دفاعی معاہدے کو اپ ڈیٹ کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے، جس کے تحت امریکہ کو اس خطے میں فوجی موجودگی کے لیے خصوصی اختیارات ملے ہوئے ہیں۔
خطے کے رہنماؤں نے اس مسئلے کو بین الاقوامی قانون اور خود مختاری کے اصولوں کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے، اور گرین لینڈ کے عوام نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ نہ تو امریکی اور نہ ڈینش ریاست بننا چاہتے ہیں بلکہ ایک آزاد، خود مختار شناخت چاہتے ہیں۔
یہ سلسلہ علاقائی حاکمیت، امریکہ-یورپ تعلقات، اور آرکٹک سیکیورٹی کے وسیع موضوعات سے جڑا ہوا ہے، جس پر عالمی سطح پر ردعمل، تحفظات اور مزاحمت سامنے آ رہے ہیں۔
