نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے یورپ کی دفاعی صلاحیت پر کھل کر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے بغیر یورپ کا خود کو محفوظ سمجھنا محض ایک خوش فہمی ہے۔
یورپی قانون سازوں سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور امریکا ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں اور اگر امریکا پیچھے ہٹ گیا تو یورپ اپنی آزادی کے سب سے مضبوط ضامن، یعنی امریکی جوہری تحفظ، سے محروم ہو جائے گا۔
مارک روٹے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیوں کے بعد نیٹو کے اندر تناؤ بڑھ چکا ہے۔ گرین لینڈ، جو کہ نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے، حالیہ دنوں میں عالمی سیاست کا مرکز بنا رہا، جہاں ٹرمپ نے یورپی حامیوں پر ٹیرف لگانے کی دھمکیاں بھی دیں، تاہم بعد میں معدنیات سے مالا مال اس جزیرے پر ایک فریم ورک معاہدے کے بعد یہ دھمکیاں واپس لے لی گئیں، جس میں مارک روٹے نے کلیدی کردار ادا کیا۔
نیٹو چیف نے واضح کیا کہ اگر یورپ واقعی امریکا کے بغیر کھڑا ہونا چاہتا ہے تو اسے دفاعی اخراجات کو موجودہ 5 فیصد کے بجائے 10 فیصد تک بڑھانا ہوگا اور ساتھ ہی اپنی جوہری صلاحیت بھی تیار کرنی پڑے گی، جس پر اربوں یورو خرچ ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا کے بغیر یورپ نہ صرف اپنی سلامتی بلکہ اپنی آزادی بھی برقرار نہیں رکھ سکے گا۔
یاد رہے کہ نیٹو کے حالیہ اجلاس میں یورپی ممالک اور کینیڈا نے 2035 تک مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد دفاع اور سیکیورٹی پر خرچ کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اسپین اس معاہدے سے الگ رہا، جبکہ فرانس کی جانب سے یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کے مطالبے کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس نے یورپی دفاعی مستقبل پر ایک نئی اور سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔
