آذربائیجان کے حکام نے ایک بڑی دہشت گردانہ سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت باکو میں ایک غیر ملکی سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم داعش خراسان (ISIS-K) کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔ آذربائیجان کی ریاستی سیکیورٹی سروس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق گرفتار ملزمان نے داعش خراسان کے ارکان سے رابطے میں رہتے ہوئے نہ صرف حملے کی منصوبہ بندی کی بلکہ اس مقصد کے لیے اسلحہ بھی حاصل کر لیا تھا، تاہم بروقت انٹیلی جنس کارروائی کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز نے انہیں حملے سے قبل ہی حراست میں لے لیا۔ حکام نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس غیر ملکی سفارت خانے کا نام ظاہر نہیں کیا جسے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
ریاستی سیکیورٹی سروس کے مطابق گرفتار افراد میں سے ایک کی پیدائش سنہ 2000 جبکہ دیگر دو کی پیدائش 2005 میں ہوئی تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو تیزی سے اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان پر مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی کی تیاری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس نیٹ ورک کے مزید افراد بھی ملک کے اندر سرگرم تھے یا نہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی آذربائیجان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر انٹیلی جنس نگرانی کو مزید سخت بنانے کا نتیجہ ہے۔
داعش خراسان، جو افغانستان میں سرگرم داعش کی ایک انتہائی متحرک اور خطرناک شاخ سمجھی جاتی ہے، اس سے قبل بھی خطے اور اس سے باہر بڑے حملوں میں ملوث رہی ہے۔ اس تنظیم نے مارچ 2024 میں روس کے دارالحکومت ماسکو کے کروکس سٹی ہال پر ہونے والے ہولناک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں کم از کم 145 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ روس کے اکثریتی مسلم علاقوں اور وسطی ایشیا میں بھی داعش سے منسلک متعدد حملوں کی منصوبہ بندی کو حالیہ برسوں میں ناکام بنایا جا چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم خطے میں اپنی سرگرمیاں پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آذربائیجان، جو جنوبی قفقاز میں روس اور ایران کے درمیان واقع ہے، ایک ایسا ملک ہے جہاں اگرچہ اکثریتی آبادی مسلمان، بالخصوص شیعہ ہے، تاہم ریاستی نظام سیکولر ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی سیکولر طرزِ حکومت اور جغرافیائی محلِ وقوع آذربائیجان کو شدت پسند تنظیموں کی نظر میں ایک حساس ہدف بناتا ہے۔ آذربائیجانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں کسی بھی قسم کی مذہبی انتہا پسندی یا دہشت گرد نیٹ ورک کو پنپنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس حوالے سے زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
یہ واقعہ کوئی پہلا نہیں، کیونکہ ایک علیحدہ مقدمے میں گزشتہ سال اکتوبر 2025 میں آذربائیجان کی ایک عدالت نے داعش خراسان سے وابستہ ایک شخص کو باکو میں دسمبر 2024 کے دوران ایک عبادت گاہ پر مولوتوف کاک ٹیل سے حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں 13 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان مسلسل واقعات نے آذربائیجان میں سیکیورٹی اداروں کو مزید چوکس کر دیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ گرفتاری نہ صرف آذربائیجان کے سیکیورٹی نظام کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ داعش خراسان جیسی تنظیمیں اب صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سفارتی اہداف کو نشانہ بنا کر عالمی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کے پیش نظر خطے میں سیکیورٹی خطرات بدستور برقرار ہیں
