امریکی اور ایرانی تعلقات میں ایک بار پھر شدید تناؤ کی فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں سفارتی کوششوں کی ناکامی کے بعد عسکری امکانات پر سنجیدگی سے غور شروع ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں اعلیٰ سطح پر ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک نئی اور کہیں زیادہ سخت فوجی کارروائی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنے سے متعلق ابتدائی نوعیت کی بات چیت کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔
ذرائع کے مطابق امریکی قیادت اس بات پر مایوس نظر آتی ہے کہ تہران نے مذاکرات کے ذریعے اپنے جوہری عزائم پر قابلِ قبول ضمانتیں فراہم نہیں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب وائٹ ہاؤس میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا سفارتی راستہ مزید وقت لینے کے بجائے سخت دباؤ اور طاقت کے استعمال سے مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے طرزِ فکر میں حالیہ دنوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جو ان کی انتظامیہ کے پہلے سے اعلان کردہ اہداف کے مقابلے میں کہیں زیادہ جارحانہ سمت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن وہ کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔ خاص طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان ممکنہ ملاقات پر غور ہوا، تاہم یہ منصوبہ مختلف وجوہات کی بنا پر پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اس ناکامی کے بعد دونوں ممالک نے پسِ پردہ رابطوں کا سہارا لیا اور عمان کے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا، تاکہ کشیدگی کم کرنے اور کسی ممکنہ تصادم سے بچنے کے امکانات کو پرکھا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی حکام کو خدشہ لاحق ہے کہ ایران اپنے زیرِ زمین جوہری ڈھانچے کو دوبارہ فعال کرنے اور ازسرِنو تعمیر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ان اطلاعات نے واشنگٹن میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک یہ سرگرمیاں خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہی خدشات صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ ایران پر دباؤ بڑھانا اب ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک پیغام کے ذریعے ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کوئی نیا معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ “منصفانہ اور عادلانہ” ہونا چاہیے اور اس میں ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم اسی پیغام میں انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو مستقبل میں ہونے والی کسی بھی امریکی کارروائی کی شدت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی۔
صدر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والی امریکی کارروائی کو ایک مثال کے طور پر دیکھتے ہیں، جب ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ نہ صرف زیادہ وسیع ہوگا بلکہ اس کے اثرات بھی کہیں زیادہ گہرے ہوں گے۔ اسی سوچ کے تحت مختلف عسکری آپشنز میز پر رکھے جا چکے ہیں۔
ان آپشنز میں صرف جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایرانی حکومتی اداروں اور سکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق امریکی حکام ان ایرانی رہنماؤں اور سکیورٹی شخصیات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں جنہیں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سخت کارروائیوں اور ہلاکتوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کی ٹارگٹڈ کارروائیاں صدر ٹرمپ کے اس تصور کا حصہ ہیں جس کے تحت ایران کی قیادت پر براہِ راست دباؤ ڈال کر اسے پالیسی تبدیلی پر مجبور کیا جا سکے۔
اگرچہ یہ تمام تجاویز زیرِ غور ہیں، لیکن یہ بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی حتمی منصوبے پر دستخط نہیں کیے۔ ان کے قریبی مشیروں کے مطابق وہ مختلف منظرناموں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کو مدنظر رکھ رہے ہیں کہ کسی بھی کارروائی کے علاقائی اور عالمی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ اس احتیاط کے باوجود، امریکی صدر یہ محسوس کرتے ہیں کہ خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑوں اور اضافی فوجی وسائل کی موجودگی نے ان کے ہاتھ مضبوط کر دیے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرۂ عرب اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری طاقت کی بڑھتی ہوئی موجودگی صدر ٹرمپ کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ انتخاب فراہم کرتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس میں فوجی آپشنز پر گفتگو اب زیادہ کھل کر ہو رہی ہے۔ تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی بڑی عسکری کارروائی سے پورا خطہ ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف سفارتی چینلز ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور ثالثی کے ذریعے رابطے جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام رہے تو طاقت کا استعمال ایک حقیقی امکان بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا صدر ٹرمپ دوبارہ مذاکرات کی میز کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر ایران کے خلاف سخت عسکری قدم اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن فی الحال عالمی برادری اس کشیدہ صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
