امریکہ میں سائبر سکیورٹی کے نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق ایک نیا اور حساس معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے سرکاری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مختلف امریکی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق وزارتِ داخلی سلامتی سے وابستہ ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار کی جانب سے ایک ایسی غلطی سرزد ہوئی، جس نے سرکاری ڈیٹا کے تحفظ اور AI ٹیکنالوجی کے غیر محتاط استعمال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکہ کی سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (CISA) کے قائم مقام سربراہ مادو گوٹوموکالا نے گزشتہ موسمِ گرما کے دوران کچھ حساس نوعیت کی سرکاری دستاویزات ایک عوامی سطح پر دستیاب مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم، یعنی ChatGPT کے مفت ورژن، پر اپ لوڈ کر دی تھیں۔ یہ انکشاف امریکی وزارتِ داخلی سلامتی کے چار اعلیٰ حکام نے کیا، جس کے بعد یہ معاملہ پالیسی سازوں اور سکیورٹی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب گوٹوموکالا خود ایجنسی میں AI ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے خصوصی اجازت حاصل کر چکے تھے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے مئی 2025 میں اپنی تعیناتی کے فوراً بعد ایجنسی کے انفارمیشن آفس سے باضابطہ اجازت مانگی تھی تاکہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی کو محدود پیمانے پر استعمال کر سکیں۔ اس وقت ایجنسی کے دیگر ملازمین کے لیے ایسے AI ٹولز کا استعمال مکمل طور پر ممنوع تھا، جس سے یہ معاملہ مزید غیر معمولی بن جاتا ہے۔
اگرچہ یہ دستاویزات سرکاری درجہ بندی کے مطابق “خفیہ” نہیں تھیں، تاہم ان پر واضح طور پر “صرف سرکاری استعمال کے لیے” (For Official Use Only) درج تھا۔ اس اصطلاح کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگرچہ مواد اعلیٰ درجے کی خفیہ فائلز میں شامل نہیں، لیکن اسے عوامی سطح پر شیئر کرنا یا کسی ایسے پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرنا جہاں ڈیٹا کنٹرول سے باہر ہو جائے، پالیسی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان دستاویزات میں CISA کے مختلف معاہدوں اور انتظامی معاملات سے متعلق معلومات شامل تھیں، جو عام شہریوں یا نجی اداروں کے لیے دستیاب نہیں ہونی چاہئیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایجنسی کے سائبر سکیورٹی مانیٹرنگ سسٹمز نے اگست کے مہینے میں ان دستاویزات کی غیر معمولی سرگرمی کو شناخت کیا۔ خودکار سکیورٹی سینسرز نے الرٹ جاری کیا، جس کے بعد وزارتِ داخلی سلامتی کے اعلیٰ حکام نے فوری طور پر اندرونی جائزہ شروع کر دیا۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا اس عمل سے قومی سلامتی، سرکاری نیٹ ورکس یا حساس انفراسٹرکچر کو کسی قسم کا حقیقی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب، ایجنسی کی ترجمان مارسی مکارثی نے اس معاملے پر ایک محتاط مؤقف اختیار کیا۔ ان کے مطابق گوٹوموکالا نے AI ٹول کا استعمال موجودہ ضوابط کے اندر رہتے ہوئے محدود سطح پر کیا تھا، اور ان کا مقصد کسی بھی قسم کا ڈیٹا افشاء کرنا نہیں تھا۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایجنسی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر مکمل عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ کی قیادت کو مضبوط بنانا اور غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حتیٰ کہ اعلیٰ سطحی عہدیداران بھی AI ٹیکنالوجی کے استعمال میں غیر ارادی طور پر سنگین غلطیاں کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس حقیقت نے تشویش کو بڑھا دیا ہے کہ ChatGPT جیسے عوامی پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کیا گیا ڈیٹا خود بخود متعلقہ کمپنی، یعنی OpenAI، کے سسٹمز میں چلا جاتا ہے۔ اس ڈیٹا کو مستقبل میں ماڈلز کی بہتری یا دیگر صارفین کے سوالات کے جوابات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے معلومات کے غیر ارادی پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی حساس سمجھا جا رہا ہے کیونکہ گوٹوموکالا اس وقت CISA کے سب سے اعلیٰ سیاسی عہدیدار ہیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داری وفاقی نیٹ ورکس، اہم انفراسٹرکچر اور حساس ڈیجیٹل نظاموں کو روس اور چین جیسے حریف ممالک کے جدید اور پیچیدہ سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ ایسے میں ان ہی کی جانب سے سرکاری نوعیت کی دستاویزات کا ایک عوامی AI پلیٹ فارم پر اپ لوڈ ہونا ادارہ جاتی ساکھ کے لیے ایک دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی وفاقی پالیسی کے تحت اگر حساس یا محدود نوعیت کی معلومات اس انداز میں افشاء ہو جائیں تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ قوانین کے مطابق ایسے معاملات میں تادیبی کارروائی، لازمی سکیورٹی تربیت، یا بعض صورتوں میں متعلقہ فرد کی سکیورٹی کلیئرنس کی معطلی یا منسوخی تک کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے یہ اندرونی تحقیقات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں، کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف اس مخصوص واقعے بلکہ مستقبل میں AI کے استعمال سے متعلق پالیسیوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
