امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ **روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شدید سردی کے باعث یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر ایک ہفتے کے لیے حملے نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کی انہوں نے واشنگٹن میں کابینہ اجلاس کے دوران ذاتی طور پر بات چیت کے بعد اطلاع دی۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پیوٹن سے براہِ راست درخواست کی کہ انتہائی سرد موسم کے دوران شہری مراکز پر فائرنگ یا حملوں کو معطل کیا جائے، جس پر روسی قائد نے اتفاق کیا، تاہم کریملن نے ابھی تک اس مبینہ معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ یہ اعلان انتہائی سرد موسم میں کیف اور دیگر شہروں کے لیے حفاظتی صورتِ حال بہتر بنانے کا ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب یوکرین کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت منفی 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں نے لاکھوں شہریوں کو بجلی اور حرارت سے محروم کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ روس 2022 میں مکمل حملے کے بعد سے یوکرین کی توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملکی شہری بحران اور سردی کے باعث مسائل میں شدت آئی ہے۔ یوکرینی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر روس عارضی طور پر حملے روک دیتا ہے تو وہ بھی روس کے بنیادی تیل ریفائنریز پر حملوں کو عارضی طور پر معطل کر سکتا ہے، جس سے دونوں جانب کشیدگی کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
روس کی جانب سے ابھی تک کسی بھی قسم کی باضابطہ تائید یا ردعمل نہیں آیا، جس سے عملدرآمد کے حوالے سے خدشات موجود ہیں، تاہم یورپی اور عالمی رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کے اعلان کو امید افزا مگر مشروط پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان متحدہ عرب امارات میں ثالثی مذاکرات بھی جاری ہیں، جن میں طویل المدتی جنگ بندی، سیکیورٹی ضمانتوں اور جنگ کے خاتمے کے ممکنہ راستوں پر بات چیت ہو رہی ہے، لیکن بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
