جنوبی افریقہ نے اسرائیلی سفارت کار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر 72 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا
جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے ناظم الامور (چارجے ڈیافیرز) ایریل سیڈمین کو ناپسندیدہ شخصیت (Persona Non Grata) قرار دیتے ہوئے 72 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جنوبی افریقہ کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں سامنے آیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایریل سیڈمین نے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی ہے، اور انہوں نے جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا کے خلاف سرکاری اسرائیلی سوشل میڈیا پر مبینہ توہین آمیز مہم چلائی، جو ملک کی خودمختاری کے لیے براہِ راست چیلنج تصور کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سفارت کار نے وفاقی اداروں کو باقاعدہ طور پر مطلع کیے بغیر اعلیٰ حکام کے دوروں میں حصہ لیا، جسے ویانا کنونشن (جو سفارتی اصولوں کی بنیاد ہے) کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اس طرح کے اقدامات نے دوطرفہ اعتماد اور تعلقات کو نقصان پہنچایا۔
وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ سفارتی اصولوں کی پاسداری یقینی بنائے اور جنوبی افریقہ کے ساتھ تعلقات میں احترام کا مظاہرہ کرے۔
اسرائیل کی جوابی کارروائی بھی سامنےآگئی ہےِ،اس فیصلے کےفوراًبعداسرائیلی وزارتِ خارجہ نےبدلےمیں جنوبی افریقہ کے سینئر سفارت کار شان ایڈورڈ بائنیویلڈ کو بھی ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے 72 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
تناؤ کی وجوہات اور پس منظر
یہ اقدام جنوبی افریقہ اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کی تازہ جھلک ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات 2023 میں جنوبی افریقہ کی طرف سے عالمی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزام کے بعد سے تناؤ کا شکار ہیں، جسے اسرائیل شدید تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے۔
ریاستی سطح پر یہ معاملہ نہ صرف دوطرفہ سفارتی آداب کے خلاف مبینہ کارروائیوں سے جڑا ہے، بلکہ عالمی سیاسی پس منظر، انسانی حقوق اور فلسطین–اسرائیل تنازع کی وسیع تر بحث کا حصہ بھی بن گیا ہے
