امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی طرف امریکی جنگی جہازوں کے ایک بڑے بیڑے کی روانگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیڑا وہاں بھیجے گئے بیڑے سے کہیں بڑا ہے جو وینزویلا کے حوالے سے استعمال ہوا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا:
"ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا، یا فلوٹیلاجسے آپ چاہیں وہ نام دیں — اس وقت ایران کی جانب جا رہا ہے، اور یہ وینزویلا کے لیے بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے۔”
جب صحافیوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ "ہم دیکھیں گے یہ سب کیسے آگے بڑھتا ہے۔ انھیں کہیں تو رکھنا ہے، بہتر ہے کہ وہ ایران کے قریب ہی رہیں۔”
اس سے قبل بھی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اشارہ دیا تھا کہ بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ طاقتور، بھرپور اور واضح مقصد کے ساتھ ہے، جس کی قیادت طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا مقصد اور پیغام
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایران کو ایک منصفانہ معاہدے پر آمادگی دکھانی چاہیے، جس میں جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ جیسے مطالبات شامل ہوں۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر مذاکرات ممکن ہو جائیں تو یہ بہتر ہوگا، لیکن اگر نہیں تو پھر حالات کو آگے دیکھنا پڑے گا۔
امریکہ کی فوجی تیاری اور خطے کا ردعمل
امریکی بحری بیڑے میں USS Abraham Lincoln کے علاوہ متعدد جنگی جہاز شامل ہیں، جو مرکزِ کمان (CENTCOM) علاقے میں پہنچ چکے ہیں اور ایران کے قریب اپنے مشن کے لیے تیار ہیں۔
امریکی وسائل کی تعداد اور تعیناتی مشرق وسطیٰ میں پہلے سے بڑھائی گئی ہے، جن میں مزید جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی اثاثے شامل ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی اثاثے اس کے مڈ رینج میزائلز کی حد میں آچکے ہیں، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ پھر بھی دہشت گردی، جوہری ہتھیاروں اور امن کے معاہدے جیسے سیاسی راستوں پر بھی توجہ دینا چاہتے ہیں، اور فوجی کارروائی ضروری نہ بھی ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی خدشات
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ بیڑا ایک طاقت کا مظاہرہ ہے جو ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اقتصادی عدم استحکام اور ممکنہ فوجی ردعمل جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں
