وسلو: ناروے کی شہزادی میٹے ماریٹ کے بیٹے ماریئس بورگ ہوئیبی کو اتوار کے روز ایک خاتون پر حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد منگل کو اوسلو کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ عدالت نے پولیس کی درخواست پر 29 سالہ ہوئیبی کو چار ہفتوں کے لیے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے تاکہ دوبارہ جرم کے خدشے کو روکا جا سکے۔
پولیس کے مطابق تازہ واقعے میں ماریئس ہوئیبی نے مبینہ طور پر چاقو لہرانے، دھمکیاں دینے اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔ مجموعی طور پر ان پر 38 سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں چار خواتین کے ریپ، تشدد، دھمکیاں، منشیات کی ترسیل، گھریلو املاک کو نقصان پہنچانا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق جنسی زیادتی کے چار مقدمات 2018 سے 2024 کے دوران درج ہوئے۔ ایک کیس میں الزام ہے کہ متاثرہ خاتون کے سوتے ہوئے جنسی زیادتی کی گئی، جبکہ دیگر تین کیسز میں خواتین کے بے ہوشی کی حالت میں ریپ کے الزامات شامل ہیں۔ اگر تمام الزامات ثابت ہو گئے تو ہوئیبی کو دس سال سے زائد قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ہوئیبی نے ریپ سمیت سنگین الزامات سے انکار کیا ہے، تاہم انہوں نے کچھ معمولی جرائم، جن میں جسمانی تشدد اور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ شامل ہے، کا اعتراف کیا ہے۔
اگست 2024 سے اب تک ماریئس بورگ ہوئیبی کو چار مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سنہ 2024 میں پہلی گرفتاری ایک ایسی خاتون پر حملے کے الزام میں ہوئی تھی جن کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔
اگرچہ شاہی محل کا مؤقف ہے کہ ماریئس ہوئیبی شاہی خاندان کے رکن نہیں اور نہ ہی عوامی عہدہ رکھتے ہیں، تاہم وہ ولی عہد شہزادہ ہاکون کے سوتیلے بیٹے ہیں، جس کے باعث یہ مقدمہ براہِ راست شاہی خاندان کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران ماریئس ہوئیبی کے ساتھ کوئی قریبی رشتہ دار موجود نہیں ہوگا۔ شہزادی میٹے ماریٹ اور ولی عہد شہزادہ ہاکون عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔ عدالت نے آئندہ سات ہفتوں تک ہوئیبی کی تصاویر شائع کرنے پر پابندی بھی عائد کر دی ہے، تاہم دنیا بھر کے صحافی اوسلو میں موجود ہیں۔
اس مقدمے کے ساتھ ساتھ شہزادی میٹے ماریٹ کے ماضی کے ایک اور تنازع نے بھی عوامی بحث کو جنم دیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے 2011 سے 2014 کے دوران بدنام زمانہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے خط و کتابت کی اور ان کے فلوریڈا والے گھر میں چار راتیں قیام بھی کیا، اگرچہ اس وقت ایپسٹین وہاں موجود نہیں تھے۔
شہزادی نے بعد ازاں اس تعلق کو ’غلط فیصلہ‘ قرار دیا اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ناروے کے وزیراعظم یوناس گاہر سٹورے نے بھی اس فیصلے کو غلط اقدام قرار دیا۔
ولی عہد شہزادہ ہاکون نے مقدمے سے قبل متاثرہ خواتین اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
ہوئیبی ہمارے خاندان کا حصہ ہے، لیکن ہم ان خواتین کے درد کو بھی سمجھتے ہیں جو متاثر ہوئیں۔
بادشاہ ہیرالڈ پنجم اور ملکہ سونیا (دونوں 88 برس کے) مقدمے میں شریک نہیں ہوں گے اور اس وقت اٹلی میں سرمائی اولمپکس کے موقع پر ناروے کے کھلاڑیوں سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مقدمہ ناروے کی شاہی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل بن چکا ہے۔ مشہور میگزین Se og Hør کے ایڈیٹر ان چیف نکلاس کوکن تھوریسن کے مطابق
یہ بحران اس سطح کا ہے جس کا شاہی خاندان نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا۔اگرچہ دباؤ شدید ہے، تاہم حالیہ سروے کے مطابق 73 فیصد نارویجین عوام اب بھی بادشاہت کی حمایت کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ولی عہد کی بیٹی شہزادی انگریڈ الیگزینڈرا کا حالیہ عوامی دورہ اعتماد بحال کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عدالت میں متعدد خواتین بطور گواہ پیش ہوں گی، جن میں معروف سوشل انفلوئنسر نورا ہاؤکلینڈ بھی شامل ہیں۔ ان کے الزامات فردِ جرم کا حصہ ہیں، جن میں تشدد، گلا دبانا اور دھمکیاں شامل ہیں۔ دیگر متاثرہ خواتین میں بعض معروف انفلوئنسرز اور زیادہ تر عام شہری شامل ہیں، جنہیں آنے والے ہفتوں میں عدالت کے سامنے اپنی زندگی کے حساس ترین تجربات بیان کرنا ہوں گے۔
