لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو قتل کر دیا گیا ہے، جس کی تصدیق قذافی خاندان کے قریبی ذرائع، ان کے وکیل اور سیاسی مشیروں نے عالمی میڈیا کو کی ہے۔
لیبیا کے مغربی علاقے زنتان میں واقع ان کے گھر پر کی گی فائرنگ کے نتیجے میں 53 سالہ سیف الاسلام موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ چار نامعلوم مسلح نقاب پوش حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ حملہ سے قبل سیکیورٹی کیمروں کو بند کر دیا گیا تھا، جس سے قاتلوں نے اپنے آثار چھپانے کی کوشش کی۔
ان کے وکیل خالد الزیدی اور مشیر عبداللہ عثمان نے الگ الگ اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں واقعے کی تصدیق کی، جس میں بتایا گیا کہ مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن تحقیقاتی ٹیمیں قاتلوں کی شناخت اور واردات کے پس منظر پر کام کر رہی ہیں۔
سیف الاسلام کو ایک طویل عرصے تک اپنے والد معمر قذافی کا ممکنہ سیاسی جانشین سمجھا جاتا رہا تھا، خاص طور پر 2000 سے 2011 تک جب وہ پالیسی سازی میں فعال کردار ادا کرتے تھے۔ 2011 کے عوامی انقلاب کے بعد انہیں ایک مقامی ملیشیا نے گرفتار کیا اور پھر 2017 میں عام معافی کے تحت رہا کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے 2021 میں لیبیا کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، مگر یہ انتخابات سیاسی بے یقینی اور اختلافات کی وجہ سے ملتوی ہو گئے تھے۔ ان کی موت نے نہ صرف ایک طویل سیاسی دور کا اختتام سامنے لایا ہے بلکہ لیبیا کے اندر سیاسی انتشار اور طاقت کی جدوجہد کو بھی اربابِ اختیار کے سامنے ایک اور چیلنج کے طور پر پیش کیا ہے۔
