واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق اہم مذاکرات جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں منعقد ہوں گے، جہاں دونوں ممالک کے نمائندے ایک بار پھر سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ مذاکرات کے مقام یا فارمیٹ میں کسی قسم کی تبدیلی کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران طے شدہ فریم ورک کے تحت مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے تو امریکا اس ہفتے یا آئندہ ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ان مذاکرات میں نیوکلیئر پروگرام کے ساتھ ساتھ دفاعی اور قومی سلامتی سے متعلق دیگر معاملات بھی زیر بحث لانا چاہتا ہے۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ ایسے موضوعات اس کے لیے ناقابلِ مذاکرہ ہیں اور وہ صرف پہلے سے طے شدہ دائرہ کار کے تحت نیوکلیئر امور پر بات چیت کرے گا۔
اس سے قبل مذاکرات کے لیے استنبول کو بھی ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور لایا گیا تھا، جہاں ترکی نے ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ تاہم عمان اس سے پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں اہم سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے مسقط کو ایک قابلِ قبول اور غیر جانبدار مقام سمجھا جاتا ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے حساس وقت میں ہو رہے ہیں جب خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے بیانات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکا اور اس کا قریبی اتحادی اسرائیل ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس میں توانائی کی پیداوار بھی شامل ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق مسقط میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران کے نیوکلیئر پروگرام بلکہ خطے کے مجموعی امن و استحکام کے لیے بھی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
