ماسکو: روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی حکام نے عالمی سطح کے بچوں کی اسمگلنگ نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کیا۔ زاخارووا نے کہا کہ سامنے آنے والی تفصیلات انسانیت کے لیے "خالص جہنم” کے مترادف ہیں۔
زاخارووا کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف نے گزشتہ ہفتے ایپسٹین کیس سے متعلق 3 ہزار کے قریب ای میلز، آڈیوز، تصاویر اور جائیداد سے ضبط شدہ دستاویزات جاری کیں، جن میں ایک کم عمر متاثرہ لڑکی کی ڈائری بھی شامل تھی۔ ڈائری میں دعویٰ کیا گیا کہ ایپسٹین نے 2002 کے آس پاس 16 یا 17 سالہ لڑکی کو بچے کی پیدائش کے لیے استعمال کیا، جس کی نگرانی ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل نے کی۔
ڈائری کے مطابق نوزائیدہ بچے کو پیدائش کے فوراً بعد کہیں منتقل کر دیا گیا اور بعد میں اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ دیگر دستاویزات سے عندیہ ملتا ہے کہ ایپسٹین نے اپنی متعدد متاثرہ لڑکیوں سے بچوں کی پیدائش کی کوشش کی۔
زاخارووا نے امریکی عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ گھسلین میکسویل کو صرف 20 سال قید کی سزا کیوں دی گئی اور بچوں کی بین الاقوامی اسمگلنگ کے باوجود عالمی سطح پر تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق امریکہ کو ابتدائی مرحلے سے ہی انٹرپول اور یوروپول کو شامل کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین کے مبینہ بااثر گاہکوں، جن میں سابق برطانوی شہزادہ اینڈریو سمیت کئی معروف شخصیات شامل ہیں، کے خلاف ابھی تک کوئی فوجداری کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ زاخارووا نے مغربی عدالتی نظام کی دوہری سوچ کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ جب معاملات عالمی اشرافیہ تک پہنچتے ہیں تو مغرب میں سچائی کی مکمل تحقیقات کبھی نہیں ہوتیں، چاہے ثبوت تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں موجود ہوں۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف ایپسٹین کیس کی شدت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بچوں کے تحفظ اور طاقتور شخصیات کے خلاف قانونی کارروائی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
