امریکی صدرنےایک چونکادینےوالادعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 10 طیارے گرائے گئے تھے اور صورتحال ایٹمی جنگ کے انتہائی قریب پہنچ چکی تھی، تاہم انہوں نے ٹیرف کی دھمکی دے کر ممکنہ تباہی کو روک دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر وہ بروقت مداخلت نہ کرتے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ سکتی تھی۔ ان کے بقول، انہوں نے دونوں ممالک کو تجارتی محصولات (ٹیرف) بڑھانے کی دھمکی دی، جس کے بعد کشیدگی میں کمی آئی اور جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم پاکستان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی مداخلت سے ایک کروڑ جانیں بچ گئیں۔ امریکی صدر کے مطابق اس وقت دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے تھے اور حالات تیزی سے بگڑ رہے تھے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ اب تک 8 جنگیں رکوا چکے ہیں، جن میں سے 6 صرف ٹیرف کی دھمکی کے ذریعے ختم ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ بعض اوقات فوجی طاقت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے اور اس بار ایران سنجیدگی سے بات چیت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران معاہدہ کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ماضی میں ایران نے حد سے زیادہ اعتماد کا مظاہرہ کیا اور مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بحری بیڑہ تعینات کر سکتا ہے اور انتہائی سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکی صدر کے ان بیانات نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر پاک بھارت تعلقات اور ایران کے جوہری پروگرام کے تناظر میں۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات خطے میں سفارتی اور عسکری توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
