واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو ایک ’ناکام ملک‘ قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ اسے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لینا چاہیے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کو فی الوقت وینزویلا طرز کی حکومت تبدیلی کی ضرورت نہیں، تاہم امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر زور دینا ضروری ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ کیوبا میں ایندھن کی شدید قلت اور بلیک آؤٹ کے حالات برقرار ہیں، جس کی بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے عائد پابندیاں ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت امریکی انتظامیہ نے دیگر ممالک پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ کیوبا کو تیل فراہم نہ کریں۔ صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ’’ایندھن کی کمی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے اور یہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔‘‘
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنوری میں کیوبا کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لے، ورنہ اسے سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ اس پر میگوئل ڈیاز کینیل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کو کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔
فلوریڈا کے قریب واقع یہ جزیرہ نما ملک کئی دہائیوں سے امریکہ کے مخالف اور وینزویلا کا اتحادی رہا ہے، تاہم وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد صدر ٹرمپ کی دھمکیاں مزید شدت اختیار کر چکی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر لکھا کہ کیوبا کو اب مزید کوئی تیل یا پیسہ نہیں جائے گا، میں سختی سے مشورہ دیتا ہوں کہ وہ معاہدہ کر لیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اس ممکنہ معاہدے کی نوعیت یا اس سے حاصل ہونے والے نتائج کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کی، جس سے عالمی سیاسی مبصرین میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ یہ دھمکی بین الاقوامی تعلقات اور خطے میں استحکام پر کس حد تک اثر ڈال سکتی ہے۔
