امریکا میں ایک ریپبلکن رکنِ کانگریس کے مسلم مخالف بیان نے سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید ردعمل کو جنم دے دیا ہے۔ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین Randy Fine نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) پر ایک متنازع پوسٹ میں مسلمانوں کا موازنہ کتوں سے کیا، جس کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ناقدین نے بیان کو نہ صرف توہین آمیز بلکہ مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مختلف شہری حقوق تنظیموں نے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے رینڈی فائن سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیلیفورنیا کے گورنر Gavin Newsom نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات امریکی معاشرے کی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں اور منتخب نمائندوں کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
واشنگٹن میں قائم تنظیم Council on American-Islamic Relations (CAIR) نے ایوانِ نمائندگان کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بیان کی واضح الفاظ میں مذمت کرے اور متعلقہ رکن کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کی زبان غیر انسانی رویوں کو فروغ دیتی ہے اور امریکا میں مسلم کمیونٹی کے خلاف تعصب اور امتیازی سلوک کو بڑھا سکتی ہے۔ تنظیم کے مطابق رینڈی فائن اس سے قبل بھی مسلمانوں اور فلسطینیوں سے متعلق سخت اور متنازع بیانات دے چکے ہیں۔
دوسری جانب رینڈی فائن نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلاموفوبک کہلانے سے خوفزدہ نہیں ہیں اور اپنے خیالات پر قائم ہیں۔ وہ ایک ایسے کانگریسی گروپ سے بھی وابستہ ہیں جو امریکا میں شریعت کے مبینہ اثر و رسوخ کے خلاف کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
تاحال ریپبلکن قیادت کی جانب سے ان کے خلاف کسی باضابطہ تادیبی کارروائی کا اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی و سماجی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تنازع امریکی سیاست میں مذہبی آزادی، اظہارِ رائے کی حدود اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے
