امریکہ کی حالیہ فوجی کارروائی اور سابق صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد وینزویلا میں فضائی سرگرمیوں کی بحالی کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں اسپین کی فضائی کمپنی ایئر یوروپا کا ایک طیارہ منگل کی شب دارالحکومت کاراکاس پہنچا۔ اسے بحران کے بعد ملک میں اترنے والی پہلی یورپی تجارتی پرواز قرار دیا جا رہا ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ مانیٹر کے مطابق یہ پیش رفت سفارتی اور فضائی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ نومبر کے آخر میں امریکہ کی جانب سے ممکنہ فوجی سرگرمیوں کے انتباہ کے بعد متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے وینزویلا کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں۔ ایئر یوروپا کا جدید بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر شام 9 بجے کاراکاس کے سائمن بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے میں آئے جبکہ محدود مگر پُرامید استقبال بھی کیا گیا۔
امریکی کارروائی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کی عبوری قیادت کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ روابط کو مستحکم بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں ٹرمپ نے عالمی ایئرلائنز سے وینزویلا کے لیے پروازیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد فضائی کمپنیوں نے مرحلہ وار واپسی پر غور شروع کر دیا۔
ہسپانوی میڈیا کے مطابق Iberia حفاظتی ضمانتوں کا جائزہ لینے کے بعد واپسی کا اعلان کرے گی جبکہ پرتگال کی قومی ایئرلائن TAP Air Portugal نے بھی پروازیں بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی طرح کولمبیا کی Avianca اور پاناما کی Copa Airlines پہلے ہی اپنے فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع کر چکی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے لیے امریکی ایئرلائنز پر عائد 2019 کی پابندی بھی ختم کر دی ہے تاکہ فضائی روابط کو تیز کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یورپی پروازوں کی واپسی وینزویلا کی عالمی تنہائی میں کمی کی علامت ہو سکتی ہے اور اس سے تجارت، سفارت کاری اور انسانی نقل و حرکت میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم سیکیورٹی صورتحال بدستور عالمی ایئرلائنز کے فیصلوں پر اثر انداز رہے گی۔
