امریکہ کی اعلیٰ ترین عدالت Supreme Court of the United States نے صدر Donald Trump کی جانب سے دنیا بھر سے درآمد شدہ اشیاء پر عائد کیے گئے بھاری ٹیرف کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ یہ فیصلہ چھ کے مقابلے میں تین ججوں کی اکثریت سے سنایا گیا، جسے ٹرمپ کے معاشی ایجنڈے کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیکس لگانے کا اختیار صرف کانگریس کاہےاکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے چیف جسٹس John Roberts نے واضح کیا کہ امریکی آئین کے مطابق ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے۔ انہوں نے لکھا کہ آئین سازوں نے ٹیکس لگانے کے اختیار کا کوئی حصہ بھی انتظامیہ کو منتقل نہیں کیا۔
دوسری جانب جسٹس Samuel Alito، Clarence Thomas اور Brett Kavanaugh نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس کیوانہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ پالیسی دانشمندانہ ہے یا نہیں، یہ الگ بحث ہے، مگر آئینی متن اور تاریخی روایات کی روشنی میں اسے غیر قانونی قرار دینا درست نہیں۔
ہنگامی اختیارات کا متنازع استعمال کیاگیاہےصدر ٹرمپ نے 1977 کے قانون International Emergency Economic Powers Act کے تحت ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے تقریباً ہر ملک پر ’جوابی ٹیرف‘ نافذ کیے تھے۔ ماضی میں اس قانون کو پابندیاں لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، مگر نئے ٹیکس عائد کرنے کے لیے اسے پہلی بار استعمال کیا گیا۔
چیف جسٹس رابرٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ماضی میں کسی صدر نے اس قانون کے تحت ایسے اختیارات استعمال نہیں کیے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے اختیارات موجود ہی نہیں۔
اربوں ڈالر کی واپسی، نئی قانونی الجھن کاسامنا ہےعدالتی فیصلے کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے جمع کیے گئے اربوں ڈالر کس طرح واپس کیے جائیں گے۔ وفاقی اعداد و شمار کے مطابق دسمبر تک ان ٹیرف سے 133 ارب ڈالر سے زائد رقم اکٹھی کی جا چکی تھی، جبکہ آئندہ دس برسوں میں اس کا مجموعی اثر 30 کھرب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ تھا۔
مشہور ریٹیل کمپنی Costco سمیت کئی بڑی کارپوریشنز پہلے ہی رقم کی واپسی کے لیے عدالتوں سے رجوع کر چکی ہیں۔ جسٹس کیوانہ نے خبردار کیا کہ یہ واپسی کا عمل ایک بڑی مالی اور انتظامی الجھن بن سکتا ہے
صدر ٹرمپ اس کیس کو امریکی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں شمار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو یہ ملکی معیشت پر کاری ضرب ہو گا۔ تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث یہ ٹیرف عوام میں زیادہ مقبول نہ ہو سکے۔
دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ عدالت کی تشکیل نو خود ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں تین قدامت پسند ججوں کی تقرری کے ذریعے کی تھی، مگر اسی عدالت نے ان کی اہم معاشی پالیسی کو مسترد کر دیا۔
کیا ٹیرف مکمل طور پر ختم ہو گئے؟عدالت کے فیصلے سے موجودہ ڈھانچہ تو ختم ہو گیا ہے، لیکن یہ صدر کو دیگر قوانین کے تحت محدود پیمانے پر ڈیوٹیز عائد کرنے سے نہیں روکتا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ متبادل قانونی راستوں سے اپنے تجارتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔
یہ فیصلہ نہ صرف صدر کے ہنگامی اختیارات پر ایک آئینی حد بندی ہے بلکہ امریکی نظامِ حکومت میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کی ایک مضبوط توثیق بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
