امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ میں 11 جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے اور انہوں نے ذاتی مداخلت کر کے دونوں ممالک کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔
واشنگٹن میں منعقدہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم Shehbaz Sharif اور انڈیا کے وزیراعظم Narendra Modi کو براہِ راست فون کر کے جنگ روکنے کا مطالبہ کیا۔
’اگر جنگ نہ روکی تو تجارتی معاہدہ نہیں ہوگاصدر ٹرمپ کے مطابق جب انہوں نے اخبار میں پاک بھارت جنگ کی خبر پڑھی اور حالات بگڑتے دیکھے تو فوری طور پر دونوں رہنماؤں سے رابطہ کیا۔
انہوں نے کہامیں نے دونوں کو کہا کہ اگر آپ جنگ نہیں روکتے تو میں آپ دونوں کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کروں گا۔
ٹرمپ نے مزید انکشاف کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کو 200، 200 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی بھی دی تھی، جس کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی اور دونوں ممالک پیچھے ہٹ گئے۔ڈھائی کروڑ زندگیاں بچائیں
امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اس اقدام سے تقریباً ڈھائی کروڑ لوگوں کی زندگیاں بچیں۔
ٹرمپ کے مطابق یہ لڑ رہے تھے اور 11 طیارے مار گرائے گئے تھے، جو بہت مہنگے تھے۔انہوں نے پاکستانی عسکری قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اچھے جنگجوؤں کو پسند کرتے ہیں۔
ایران سے متعلق ’حساس‘ بات چیت جاری ہےتقریب سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ’اچھی اور دلچسپ‘ بات چیت جاری ہے، اگرچہ امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی تیاری بھی موجود ہے۔
انہوں نے ایران کو ’’ایک حساس معاملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نمائندوں اور ایرانی حکام کے درمیان انتہائی اہم ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔
غزہ کی تعمیرِ نو کا چیلنج درپیش ہےٹرمپ نے عالمی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض بحرانوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم غزہ کی تعمیرِ نو ایک بڑا چیلنج ہے۔ اندازوں کے مطابق دو سالہ جنگ کے بعد فلسطینی علاقوں کی بحالی کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جو کسی بھی عالمی امدادی پیکج سے کہیں زیادہ ہے۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی، عالمی تجارت اور سفارتی تعلقات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔ ٹرمپ کے دعوؤں نے نہ صرف پاک بھارت تعلقات بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کے کردار پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
