روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ نے عالمی دفاعی حکمت عملیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اسی تناظر میں یورپ کی پانچ بڑی فوجی طاقتوں نے ایک اہم مشترکہ اقدام کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور پولینڈ نے مختصر مدت میں کم لاگت ڈرونز اور خودکار دفاعی پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے مشترکہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
برطانیہ، پولینڈ،فرانس ، جرمنی اوراٹلی کے وزرائے دفاع اور نائب وزرائے دفاع کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ “کم لاگت اثرات اور خود مختار پلیٹ فارموں” کا یہ اقدام نہ صرف یورپی تعاون کو فروغ دے گا بلکہ NATO کے اندر اجتماعی دفاعی صلاحیت کو بھی بہتر بنائے گا۔
چار سالہ روس۔یوکرین جنگ کے دوران ڈرونز کا استعمال فیصلہ کن عنصر بن کر سامنے آیا ہے۔ نگرانی، حملوں اور اہداف کی نشاندہی کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی نے روایتی جنگی حکمت عملیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پولینڈ کے وزیر دفاع Władysław Kosiniak-Kamysz نے کہا کہ یوکرین کی جنگ میں ڈرون نظاموں نے “انقلاب برپا” کر دیا ہے اور اسلحہ سازی کی حکمت عملیوں میں بنیادی تبدیلیاں لائی ہیں۔
فرنٹ لائن سے لے کر پسِ منظر کے علاقوں تک ڈرونز کی رسائی نے فضائی دفاعی نظام کو چیلنج کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سستے ڈرونز کو مار گرانے کے لیے مہنگے میزائل استعمال کرنا معاشی طور پر فائدہ مند نہیں رہا، جس کی وجہ سے نئے، کم خرچ اور تیزی سے تیار ہونے والے دفاعی نظاموں کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
جرمن وزیر دفاع Boris Pistorius نے پریس کانفرنس میں کہا کہ منصوبے کا بنیادی مقصد “جدید نظاموں کو تیزی اور کم لاگت کے ساتھ تیار کرنا، خصوصاً ڈرون دفاع کے لیے، اور پھر انہیں بڑی تعداد میں جلد از جلد تیار کرنا” ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام یورپ کی دفاعی صنعت کو بھی نئی سمت دے گا۔
اسی طرح برطانوی وزیر مملکت برائے دفاعی صنعت Luke Pollard نے بتایا کہ گروپ کے ہر رکن ملک نے 12 ماہ کے اندر نئے دفاعی نظام کے اجزاء کی پیداوار شروع کرنے کے لیے ضروری ٹیکنالوجی تیار کرنے پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کا عزم کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشترکہ پروگرام یورپ کی دفاعی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مستقبل کی جنگیں کم لاگت مگر زیادہ مؤثر ٹیکنالوجی کے ذریعے لڑی جائیں گی، اور یورپ اب اس نئی حقیقت کے مطابق اپنی تیاری کر رہا ہے۔یہ اقدام نہ صرف عسکری حکمت عملی میں تبدیلی کی علامت ہے بلکہ یورپی ممالک کے درمیان عملی دفاعی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
