ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن نے عملی طور پر تیسری عالمی جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور اگر انہیں فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی قیادت کو روکنے کا واحد مؤثر طریقہ بھرپور فوجی اور سخت معاشی دباؤ ہے، کیونکہ ان کے بقول پیوٹن صرف یوکرین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے عزائم وسیع تر ہیں۔
زیلنسکی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر روسی جارحیت کا مقابلہ کرے، کیونکہ پیوٹن کو یوکرین پر قبضہ نہ کرنے دینا صرف کیف کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی فتح ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ یورپ کے امن، عالمی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے مستقبل کا بھی امتحان ہے۔
دوسری جانب روسی صدر پیوٹن نے یوکرینی صدر کو ماسکو آ کر براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم زمینی حقائق اس پیشکش کے برعکس کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
ادھر یوکرین کے جنوبی علاقے اوڈیسا میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق حملے میں رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جب کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر خطے میں جنگ کے دائرہ کار اور شدت کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جبکہ سفارتی کوششوں اور عسکری محاذ آرائی کے درمیان توازن مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
