روس کے ساتھ جاری چار سالہ جنگ نے یوکرین کو نہ صرف عسکری اور معاشی سطح پر متاثر کیا ہے بلکہ ملک کو شدید آبادیاتی بحران کا بھی سامنا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگی حالات کے باعث ملک میں شرحِ پیدائش میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ خواتین کو حمل کے دوران پیچیدگیوں، طبی سہولیات کی کمی اور ابنارملٹیز جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل بمباری، نقل مکانی، ذہنی دباؤ اور صحت کے نظام پر بوجھ نے خاندانی منصوبہ بندی اور زچگی کے عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
Center for Strategic and International Studies کی جانب سے جنوری میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 فروری 2022 کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار یوکرینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا، جس کے بعد لاکھوں افراد نے ملک چھوڑ دیا۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) افراد یا تو ہلاک ہوئے یا نقل مکانی پر مجبور ہو کر بیرونِ ملک چلے گئے، جس سے ملک کی آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ادھر یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے روس کے ایک بیلسٹک میزائل پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، جسے جنگی حکمت عملی میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم روس کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طویل جنگ نے یوکرین کو صرف محاذِ جنگ پر ہی نہیں بلکہ سماجی ڈھانچے، معیشت، صحت کے نظام اور آبادی کے توازن کے اعتبار سے بھی گہرے اثرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں یوکرین کو افرادی قوت، معاشی بحالی اور سماجی استحکام کے حوالے سے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
