دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے توازن پر جاری کشمکش نے ایک بار پھر عالمی سفارتی حلقوں کو متحرک کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور چین کے درمیان الزامات اور جوابی بیانات کے تبادلے نے نہ صرف اقوامِ متحدہ کے فورمز کو گرما دیا بلکہ اس بحث کو بھی زندہ کر دیا ہے کہ آیا دنیا ایک نئی اسلحہ دوڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس تمام تر صورتحال کا پس منظر اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب امریکہ اور روس کے درمیان آخری فعال جوہری اسلحہ کنٹرول معاہدے کی مدت اختتام پذیر ہو گئی، جس کے نتیجے میں دنیا کی دو بڑی جوہری طاقتوں پر عائد کئی پابندیاں عملاً ختم ہو چکی ہیں۔
امریکی حکام نے حال ہی میں ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سفارتی ماحول میں ہلچل مچا دی۔ واشنگٹن کے مطابق چین نے چھ برس قبل ایک زیرِ زمین جوہری دھماکہ کیا تھا جسے اس وقت باضابطہ طور پر منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔ امریکی مؤقف یہ ہے کہ 22 جون 2020 کو چین کے مغربی علاقے میں واقع لوب نور کے مقام پر ہونے والی ایک سرگرمی دراصل ایک ممکنہ جوہری تجربہ تھا، جسے زلزلے کے جھٹکے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی شدت تقریباً 2.75 ریکٹر اسکیل تھی اور اس کی نوعیت روایتی کان کنی کے دھماکوں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
یہ دعویٰ وزارتِ خارجہ کے اس دفتر کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اقوامِ متحدہ کی ایک معاون کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا، جو ہتھیاروں کی نگرانی، تصدیق اور پابندیوں سے متعلق امور دیکھتی ہے۔ ان کے مطابق دستیاب شواہد کا موازنہ ماضی کے زلزلوں اور زیرِ زمین دھماکوں کے ڈیٹا سے کیا گیا، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ یہ واقعہ قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی نوعیت کا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معلومات ایک بین الاقوامی نگرانی اسٹیشن کے ذریعے حاصل ہوئیں، جو قازقستان میں قائم ہے اور عالمی سطح پر جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کے نظام کا حصہ ہے۔
امریکی نمائندے نے اس موقع پر چین کی جوہری حکمتِ عملی کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے گزشتہ برسوں میں اپنے جوہری ذخائر میں غیر معمولی رفتار سے اضافہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی قیادت کی جانب سے بارہا یہ تاثر دیا گیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں میں بے تحاشا اضافہ نہیں کرے گا، مگر زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چار سے پانچ برسوں میں چین عالمی جوہری توازن میں ایک نئی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے، جو خطے اور دنیا دونوں کے لیے اہم اثرات رکھتی ہوگی۔
اس تناظر میں امریکی حکام نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ چین اور روس دونوں کو قائل کریں کہ وہ جوہری ہتھیاروں میں کمی اور شفافیت کے لیے مزید اقدامات کریں۔ ان کا استدلال تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال یا خفیہ سرگرمی عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ ماضی کے معاہدوں میں کچھ اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا، جن میں غیر اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کا معاملہ بھی شامل ہے۔
اسی پس منظر میں امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والا نیو اسٹارٹ معاہدہ بھی زیرِ بحث آیا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق اس معاہدے کی سب سے بڑی کمزوری یہ رہی کہ اس میں چین کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو شامل نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، روس کے ایسے جوہری ہتھیار جو اسٹریٹجک درجہ بندی میں شامل نہیں تھے، ان پر بھی خاطر خواہ کنٹرول نہیں ہو سکا۔ اندازوں کے مطابق روس کے پاس تقریباً دو ہزار غیر اسٹریٹجک وارہیڈ موجود ہیں، جو معاہدے کے دائرہ کار سے باہر رہے۔ اب جبکہ اس معاہدے کی مدت ختم ہو چکی ہے، تو یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ عالمی سطح پر جوہری مسابقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں چین کے سفیر نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کے ملک نے کسی بھی قسم کا خفیہ جوہری تجربہ نہیں کیا اور امریکہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک چین کی جوہری پالیسی کو دانستہ طور پر غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں تاکہ اپنے اقدامات کے لیے جواز پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ امریکہ دراصل خود اپنے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے اور اسی مقصد کے تحت چین کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔
چینی سفیر نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو ایسے بیانات سے محتاط رہنا چاہیے جو بین الاقوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق چین کی جوہری حکمتِ عملی دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد محض اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونا۔ انہوں نے امریکہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ دیگر ممالک کی ساکھ کو متاثر کر کے اپنے بین الاقوامی وعدوں سے راہِ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے۔
اس سفارتی کشیدگی کے باوجود اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک ایک ممکنہ کثیرالجہتی معاہدے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں میں کمی کے لیے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ اسی طرح امریکہ نے روس کے ساتھ بھی مذاکرات کیے ہیں اور ایک ایسے نئے معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس میں تینوں بڑی طاقتیں شامل ہوں تاکہ عالمی سطح پر اسلحہ کنٹرول کا نظام مزید جامع اور مؤثر بنایا جا سکے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑا چیلنج اعتماد کی بحالی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے ارادوں پر شک کرتی رہیں تو کسی بھی نئے معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ جدید ٹیکنالوجی، ہائپر سونک ہتھیاروں اور سائبر صلاحیتوں نے اسلحہ کنٹرول کی بحث کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں روایتی معاہدوں کی طرز پر کوئی نیا فریم ورک تشکیل دینا ایک مشکل مگر ناگزیر مرحلہ ہوگا۔
یہ ساری صورتحال اس امر کی یاد دہانی ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا معاملہ محض عسکری طاقت کا مظہر نہیں بلکہ عالمی سیاست، سفارت کاری اور سلامتی کے ڈھانچے کا بنیادی ستون ہے۔ ایک جانب شفافیت اور اعتماد کی ضرورت ہے تو دوسری جانب قومی سلامتی کے تقاضے بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔ اگر بڑے ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں تو اسلحہ کی نئی دوڑ نہ صرف خطوں بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
