واشنگٹن:امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکزی موضوع بن گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سالانہ صدارتی خطاب میں ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے (روئٹرز) کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پہلے ہی ایسے بیلسٹک میزائل بنا چکا ہے جو یورپ اور بیرون ملک موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ اب وہ مزید جدید میزائل ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے ابھی تک یہ واضح الفاظ نہیں سنے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو دنیا میں دہشت گردی کا بڑا سرپرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، مگر اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو طاقت کے استعمال کا آپشن بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
امریکی انٹیلیجنس اداروں کی 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران ممکنہ طور پر 2035 تک ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے جو دوسرے براعظموں تک مار کر سکیں۔ امریکی کانگریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں جن کی رینج تقریباً 1850 میل (تقریباً 3000 کلومیٹر) تک ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی مغربی سرحد سے براعظم امریکہ کا فاصلہ چھ ہزار میل سے زیادہ ہے، جس کے پیش نظر امریکہ تک براہ راست مار کرنے والے میزائل کی تیاری ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہوگا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے دو دور مکمل ہو چکے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد اس جوہری معاہدے میں تبدیلی لانا ہے جس سے صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں تناؤ پیدا ہوا تھا۔سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ مہینے دونوں ممالک کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک جانب مذاکرات کا عمل جاری ہے تو دوسری جانب سخت بیانات سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
