مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے ایک اور خطرناک موڑ لے لیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران میں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ بیان وہ ہلکے انداز میں نہیں دے رہے اور خبردار کیا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ حملے ایرانی میزائل نظام کو تباہ کرنے اور ایران کی بحری طاقت کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے دہائیوں سے اپنے جوہری عزائم ترک کرنے سے انکار کیا ہے اور اب امریکہ مزید برداشت نہیں کر سکتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بہادر امریکی ہیروز کی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں، جو اکثر جنگ میں ہوتا ہے، لیکن ہم یہ اقدام صرف آج کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے استثنیٰ دینے کا وعدہ بھی کیا، اور متنبہ کیا کہ دوسرا راستہ “یقینی موت ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ایران کے جوہری پروگرام پر متعدد مذاکرات ہوئے تھے، جن کا تازہ ترین دور جمعرات کو ہوا، تاہم کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
دوسری جانب اسرائیل نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے سنیچر کو ایران پر پیشگی حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کی گئی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کئی مہینوں سے واشنگٹن کے ساتھ جاری تھی اور تاریخ ہفتوں پہلے طے کی گئی تھی۔ امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران پر امریکی حملے جاری ہیں، تاہم امریکی فوج نے فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت تہران میں ہفتے کے روز متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سرکاری ٹی وی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریب دھماکے کی تصدیق کی، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ حملوں کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جبکہ یہ امکان بھی زیرِ بحث ہے کہ خامنہ ای کو ہدف بنانے کی کوشش ہوئی ہو۔ تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ، جمہوری علاقے، سید خندان اور پاسچر اسٹریٹ کے اطراف سے دھوئیں کے گہرے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔
اسرائیل میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر خطرے کے سائرن بج اٹھے اور فوج نے عوام کو ممکنہ میزائل حملوں کے پیش نظر تیار رہنے کی ہدایت جاری کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ اسرائیلی ایئرپورٹس اتھارٹی نے شہریوں کو ہوائی اڈوں کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادھر ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور مغربی طاقتوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں پہلے ہی کمزور ہو چکی تھیں۔ تازہ عسکری کارروائیوں نے نہ صرف خطے کو ایک نئے فوجی تنازعے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی توازن پر گہرے مرتب ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ بحران محدود کارروائی تک رہتا ہے یا ایک وسیع تر جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
