مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ “تاریخ کے سب سے برے انسان خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا۔ اسرائیل کی جانب سے بھی دعویٰ کیا گیا کہ ان کارروائیوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے براہ راست تصدیق کیے بغیر کہا کہ واضح اشارے مل رہے ہیں کہ خامنہ ای اب زندہ نہیں رہے۔ ان کے مطابق سپریم لیڈر کا کمپاؤنڈ تباہ کردیاگیاجبکہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز اور سینیئر جوہری حکام بھی مارے گئے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ مشترکہ کارروائی میں خامنہ ای مارے گئے اور ان کی لاش بھی مل چکی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے ان تمام دعوؤں کو مستردکرتےہوئےکہاکہ خامنہ ای محفوظ ہیں۔سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا تھا کہ وہ قوم سےخطاب کریں گے،تاہم ہفتےکےروزکوئی خطاب نشر نہیں ہواجس سےقیاس آرائیاں مزیدبڑھ گئیں۔
ایرانی میڈیا نے یہ ضرور بتایا کہ حملوں میں خامنہ ای کے داماد اوربہوجاں بحق ہوئے ہیں،تاہم سپریم لیڈر کی ہلاکت کی خبروں کونفسیاتی جنگ قراردیا گیا۔
جوابی کارروائیاں اور خطے میں دھماکےسنےگئےہیں،امریکہ اوراسرائیل کی کارروائیوں کے بعدایران نےبھی بھرپورجواب دیا۔ ایرانی میزائل حملوں نے نہ صرف اسرائیل بلکہ بعض خلیجی ممالک کےفضائی حدود کوبھی ہلاکررکھ دیا۔
خلیج کے خوش حال ممالک کے بڑے شہروں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد پورے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال وسیع تر علاقائی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور “یہ کام مکمل کریں”، جسے مبصرین ایران کے اندرونی حالات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
تاحال خامنہ ای کی ہلاکت کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور خطے کے ممالک گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ اگر ایران کی اعلیٰ قیادت واقعی نشانہ بنی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔
فی الوقت صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے، اطلاعات متضاد ہیں اور کشیدگی عروج پر ہے۔ دنیا کی نظریں تہران، تل ابیب اور واشنگٹن پر مرکوز ہیں کہ آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں کیا رخ اختیار کیا جاتا ہے۔
