مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بحرین اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ سامنے آیا ہے۔ بحرین کے فرمانروا کنگ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کو سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور بحرین پر ہونے والے مبینہ ایرانی میزائل حملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد نے بحرین کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے ملک کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب بحرین کے خلاف کسی بھی جارحیت کو خطے کے امن کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور ریاض ہر سطح پر منامہ کے ساتھ کھڑا ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی عرب بحرین کی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو دفاعی، سفارتی اور سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے اس موقع پر سعودی عرب کے بروقت اور مخلصانہ موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ تاریخی، برادرانہ اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے سعودی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشکل گھڑی میں ریاضکی حمایت بحرینی عوام کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس ٹیلیفونک رابطے نے ایک بار پھر خلیجی اتحاد کی مضبوطی کو واضح کیا ہے۔ ایران اور بعض خلیجی ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سعودی عرب اور بحرین کا یہ مشترکہ مؤقف خطے میں ممکنہ سفارتی اور دفاعی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاض اور منامہ کے درمیان قریبی دفاعی تعاون مستقبل میں خلیج کی سکیورٹی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ ٹیلیفونک رابطہ نہ صرف بحرین کے لیے سفارتی تقویت کا باعث بنا بلکہ اس نے خطے کو یہ واضح پیغام بھی دیا کہ خلیجی ممالک اپنی خودمختاری اور سلامتی کے معاملے پر متحد ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے "ہر ممکن اقدام” کی پیشکش اس بات کی غماز ہے کہ ریاض خطے میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ پیش رفت آنے والے دنوں میں علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے
