ایران کے خلاف جاری جنگ پر مغربی دنیا کے اہم سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں بھی سوالات اٹھنےلگےہیں۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے اس جنگ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے خبردار کیاہےکہ اس کےنتائج خطے اوردنیا کےلیےانتہائی خطرناک ثابت ہوسکتےہیں۔
برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 16کےسابق سربراہ جان سواورز نے امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کی کوئی فوری ضرورت نہیں تھی کیونکہ ایران کی جانب سے کسی پیشگی حملے کا کوئی واضح خطرہ موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں جنگ کا آغاز نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے بعد ایران میں اگر حالات نسبتاً بہتر بھی ہوئے تو وہ زیادہ سے زیادہ وینزویلا جیسی صورتحال تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور غیر یقینی حالات پیدا ہونے کا بھی خدشہ موجود ہے۔
جان سوارز نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کے اندرونی نظام کو جنگ کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں اکثر غیر متوقع نتائج پیدا کرتی ہیں اور ایران جیسے بڑے اور بااثر ملک میں اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا کے اندر بھی اس جنگ پر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ رکن کرس مرفی نے حکومت کے مؤقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈٹرمپ ایک بات کہہ رہے ہیں جبکہ ان کے وزیر خارجہ کچھ اور مؤقف پیش کر رہے ہیں، جس سے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ امریکا نے آخر ایران کے خلاف جنگ شروع کیوں کی۔
سینیٹر کرس مرفی کے مطابق امریکی حکومت کی پالیسی میں واضح حکمت عملی نظر نہیں آ رہی اور اس جنگ کے مقاصد بھی واضح نہیں کیے جا رہے، جس سے نہ صرف امریکی عوام بلکہ عالمی برادری میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مغربی ممالک کے اندر سے ہی اس جنگ پر سوالات اٹھتے رہے تو آنے والے دنوں میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی طاقتوں کے بیانات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
