باکو: آذربائیجان نے ایران پر اپنی سرزمین پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس اقدام کو سخت الفاظ میں قابلِ مذمت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
آذربائیجانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران سے آنے والے ڈرونز کے واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیےمناسب ردعمل دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایک ڈرون نخچوان شہر کے ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا، جو ایران کی سرحد کے قریب واقع ایک اہم علاقہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی حساس مقام کے قریب پیش آیا جس کے باعث سیکیورٹی اداروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ دوسرا ڈرون ایک اسکول کے قریب آ کر گرا، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مقامی حکام نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ ڈرونز کی نوعیت اور ان کے اصل مقصد کا تعین کیا جا سکے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے اس واقعے پر ایران سے فوری وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے پر ایران کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس واقعے کی مکمل وضاحت نہ ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور قفقاز کے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایسے واقعات خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
