مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں واقع ایک بڑے فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے جہاں ایران کے اہم سکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کے مرکزی دفاتر قائم تھے۔
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویچائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف ایسا اہم فوجی کمپلیکس تھا جہاں ایرانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے متعدد کلیدی اداروں کے ہیڈکوارٹرز واقع تھے۔
ان کے مطابق نشانہ بنائے گئے کمپلیکس میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا مرکزی ہیڈکوارٹر، ایرانی انٹیلیجنس اتھارٹی کا دفتر، باسیج فورس کا ہیڈکوارٹر اور قدس فورس کے آپریشنل دفاتر شامل تھے۔ اس کے علاوہ کمپلیکس میں داخلی سلامتی کی خصوصی فورسز، سائبر آپریشنز کے دفاتر اور حکومت مخالف مظاہروں کو کنٹرول کرنے والے یونٹس کے کمانڈ سینٹرز بھی موجود تھے۔
اویچائے ادرعی نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے اس وقت کارروائی کی جب کمپلیکس میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود تھے اور وہاں فوجی سرگرمیاں جاری تھیں۔ انہوں نے اس حملے کی مبینہ دستاویزی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کی جس میں تہران کے ایک بڑے فوجی مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ادھر اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسی کارروائی کے دوران تہران میں ایک ٹارگٹ کلنگ آپریشن بھی کیا گیا، تاہم اس کارروائی میں ہلاک ہونے والی شخصیات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
ایران اسرائیل جنگ کا پس منظر دیکھاجائےتوواضح ہوتاہے کہ 28 فروری کو اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں واشنگٹن نے بھی تصدیق کی کہ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایک وسیع آپریشن شروع کیا ہے جس کا مقصد ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانا اور خطےمیں اس کےعسکری اثرو رسوخ کومحدودکرناہے۔
اس کےجواب میں ایران نے اسرائیل کےعلاوہ خلیجی ممالک میں موجودامریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنانےکی دھمکی دیتےہوئے میزائلوں اور ڈرونزکی بڑی تعداد داغی تھی ایرانی حملوں کا رخ عراق اور اردن کی سمت بھی بتایا گیا تھا جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے۔
یادرہےکہ ایرانی قیادت کی ہلاکتوں کا دعویٰ سامنے آچکاہےتہران نے یکم مارچ کو ایک بڑے سانحے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، وزیردفاع اورمسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی جاں بحق ہوگئےہیں۔
اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور رہبرِ اعلیٰ کے مشیر علی شمخانی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی تھی۔
دوسری جانب امریکی صدر نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے پہلے ہی دن تقریباً 40 اعلیٰ ایرانی رہنما مارے گئے۔
خطےمیں جنگ کےپھیلنےکا خدشہ ظاہرکیاجارہاہے،تجزیہ کاروں کےمطابق تہران میں سکیورٹی اداروں کےمرکزی کمپلیکس کونشانہ بنایاجانا ایران کی عسکری قیادت اور انٹیلیجنس ڈھانچےکے لیےایک بڑادھچکا ہوسکتاہے۔ تاہم ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے امکانات بھی بدستور موجود ہیں جس کے باعث پورے خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہ تنازع مشرقِ وسطیٰ کی ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
