ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا نے اپنے ایٹمی صلاحیت کے حامل ہولناک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ایل جی ایم-30 جی منٹ مین تھری کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، جسے دنیا بھر میں “ڈومز ڈے” یا “قیامت خیز میزائل” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ امریکی ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کے مطابق یہ میزائل منگل اور بدھ کی درمیانی شب کیلیفورنیا کے وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے فائر کیا گیا۔ میزائل نے بحرالکاہل کے اوپر ہزاروں میل کا فاصلہ طے کیا اور مارشل آئی لینڈز میں واقع اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کے مطابق تجرباتی میزائل میں دو غیر جوہری وار ہیڈز نصب کیے گئے تھے جن کا مقصد ہتھیاروں کے نظام کی کارکردگی، درستگی اور بھروسہ مندی سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ اور کشیدگی عروج پر ہے، تاہم یہ ایک معمول کا میزائل ٹیسٹ تھا جو کئی برس پہلے سے طے شدہ تھا اور اس کا موجودہ علاقائی تنازع سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ امریکی کمانڈ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تجربے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ امریکا کا جوہری دفاعی نظام محفوظ، فعال اور انتہائی مؤثر ہے۔
منٹ مین تھری امریکا کا واحد زمین سے فائر کیا جانے والا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ہے جو تقریباً 13 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی یہ دنیا کے کسی بھی براعظم میں موجود ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ پرواز کے دوران اس میزائل کی رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً 23 گنا زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ تقریباً 30 منٹ کے اندر اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی تباہ کن طاقت جاپان کے شہر ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور خطے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں امریکا کی جانب سے اسٹریٹجک جوہری صلاحیت کے مظاہرے کو عالمی سطح پر انتہائی حساسیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
