سعودی عرب کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کے فضائی دفاعی نظام نے جمعے کی علی الصبح مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے چار میزائل اور پانچ ڈرون فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ ان کارروائیوں کو سعودی دفاعی نظام کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ممکنہ تباہی کو بروقت روک دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تین بیلسٹک میزائل الخرج گورنری میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب داغے گئے تھے۔ تاہم سعودی فضائی دفاعی نظام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔
بعد ازاں وزارت دفاع کی ایک اور پوسٹ میں بتایا گیا کہ ایک ڈرون مشرقی صوبے میں جبکہ دوسرا الخرج کے علاقے میں مار گرایا گیا۔ اسی دوران جمعے کی علی الصبح ایک کروز میزائل کو بھی الخرج کے فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔سعودی حکام کے مطابق جمعے کے حملے سے چند گھنٹے قبل بھی الخرج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں تین کروز میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ اس سے پہلے مشرقی صوبے میں ایک ڈرون حملے کے ذریعے رأس تنورہ آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ حملہ بھی ناکام بنا دیا گیا۔
الخرج سعودی عرب کا ایک اہم صنعتی اور عسکری علاقہ ہے جو دارالحکومت ریاض سے تقریباً 80 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس علاقے میں اہم فوجی تنصیبات اور دفاعی مراکز موجود ہیں، جس کے باعث یہ دشمن حملوں کا ممکنہ ہدف سمجھا جاتا ہے۔حالیہ کشیدگی کے دوران تین مارچ کو سعودی دفاعی نظام نے ریاض اور الخرج کے قریب آنے والے آٹھ ڈرون بھی تباہ کر دیے تھے۔ اسی روز ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عمارت میں محدود آگ بھڑک اٹھی اور معمولی نقصان ہوا۔
تاہم ایران نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں۔خطے میں موجودہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب گزشتہ ہفتے سنیچر کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف ایک بڑا فضائی حملہ کیا۔ اس کارروائی کے بعد ایران نے مبینہ طور پر خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
یہ تنازع 28 فروری 2026 کو اچانک شدت اختیار کر گیا اور اب یہ خلیجی ممالک کی سرحدوں سے بھی آگے پھیل چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق خلیج تعاون کونسل (GCC) کے تمام رکن ممالک نے مختلف حملوں کی اطلاعات دی ہیں جبکہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز پر میزائل حملے کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب تقریباً 150 آئل ٹینکرز پھنس گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس واقعے کے باعث تیل کی ترسیل میں تقریباً 86 فیصد تک کمی آ چکی ہے، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے ترکیہ اور آذربائیجان کے علاقوں پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں خطے میں ایران کے مسلسل جارحانہ رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔
بیان میں کہا گیایہ بزدلانہ کارروائیاں اور خطے کے ممالک کے خلاف ایران کا رویہ ایک ایسے جارحانہ طرز عمل کی نشاندہی کرتا ہے جسے کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔سعودی کابینہ کے اجلاس کے بعد، جس کی صدارت ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے کی، مملکت نے واضح کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کے لیے جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتی ہے۔کابینہ نے زور دیا کہ سعودی عرب اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور مملکت کے خلاف کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
