امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوجی کارروائی اپنے اہداف کے حصول میں توقعات سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ جنگ بڑی حد تک مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی حکمت عملی کے تحت طے شدہ شیڈول سے بھی بہت آگے بڑھ چکا ہے اور ایران کی دفاعی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری طاقت اب تقریباً مفلوج ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس نہ مؤثر بحریہ باقی رہی ہے، نہ قابل ذکر فضائیہ اور نہ ہی مضبوط مواصلاتی نظام موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے میزائل نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کے بیشتر میزائل اب منتشر حالت میں پڑے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے تو امریکی صدر نے جواب دیا کہ ان کے خیال میں جنگ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور جلد ختم ہونے کا امکان ہے۔
تاہم اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے دیے گئے اشاروں میں قدرے مختلف انداز سامنے آیا تھا۔ حکام نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جاری یہ جنگ، جو اب اپنے دسویں دن میں داخل ہو چکی ہے، ممکن ہے کہ ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہے۔
مبصرین کے مطابق امریکی صدر کے تازہ بیانات خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ کے باعث عالمی برادری اس بحران کے جلد سفارتی حل کی امید کر رہی ہے تاکہ خطہ کسی طویل اور وسیع جنگی تصادم سے محفوظ رہ سکے۔

Add A Comment