امریکا نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے خاتمے کے لیے واضح شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکا کا فوجی آپریشن “ایپک فیوری” بھرپور انداز میں جاری ہے اور اس کے نتیجے میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج کی کارروائیوں کے دوران اب تک ایران کے 50 بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ ایران کے مختلف فوجی مراکز، اسلحہ گوداموں اور اہم تنصیبات سمیت پانچ ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
کیرولائن لیوٹ کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملوں میں تقریباً 85 فیصد کمی آ چکی ہے، جو امریکی آپریشن کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر پراعتماد ہیں کہ جنگی اہداف تیزی سے حاصل کیے جا رہے ہیں اور آپریشن اپنے اہم مقاصد کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔وائٹ ہاؤس ترجمان نے عالمی توانائی کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عارضی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی فوجی اہداف حاصل ہو جائیں گے اور صورتحال مستحکم ہو جائے گی، توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتیں دوبارہ کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف متبادل راستوں اور آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو امریکا توانائی کے شعبے میں مزید اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا جنگی مقاصد کے حصول میں مسلسل پیشرفت کر رہا ہے، تاہم آپریشن کے خاتمے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس تنازع کے جلد سفارتی حل کے لیے کوششوں پر زور دے رہی ہے۔
