امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے فیصلے سے متعلق ایک بڑا یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس اقدام کی جانب ان کے قریبی مشیروں نے مائل کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق صورتحال تیزی سے ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی تھی جسے انہوں نے "پوائنٹ آف نو ریٹرن” قرار دیا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے معاملے پر انہوں نے اپنے اہم مشیروں سے تفصیلی مشاورت کی۔ ان کے مطابق مذاکرات کار اسٹووٹکوف، مشیر جیئرڈکشنراور وزیر دفاع پیٹ ہیتگستھ کے ساتھ بات چیت کے بعد انہیں یقین ہو گیا تھا کہ تہران امریکا کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا پیشگی کارروائی نہ کرتا تو ایران ایک ہفتے کے اندر حملہ کر سکتا تھا۔ ان کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر امریکا نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حالیہ امریکی حملوں میں ایران کو نمایاں فوجی نقصان پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق کارروائیوں کے دوران ایران کی 51 بحری کشتیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ ڈرون بنانے والی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ٹرمپ کے مطابق ان حملوں کے بعد ایرانی ڈرون حملوں میں تقریباً 83 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو امریکی حکمت عملی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کے پاس ایسے کم لاگت دفاعی انٹرسیپٹر سسٹمز موجود ہیں جو ایرانی ڈرون خطرات کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا آبنائےہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا سخت فوجی ردعمل دے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی عندیہ دیا کہ عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے امریکا تیل سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی پر غور کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوا تو اس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو برقرار رکھنا ہوگا۔
ایک اور بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم بھی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے تہران کو مزید کشیدگی سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔انہوں نے ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر مبینہ حملے کی اطلاعات کی تحقیقات جاری ہونے کا ذکر بھی کیا اور ایران کی نئی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ امن کی راہ اختیار کرتی ہے یا کشیدگی کو مزید بڑھاتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں میں اس تنازع کے رخ کا تعین ہو سکتا ہے۔
